ہیڈلائنز

Reporter FK

Write on بدھ, 13 دسمبر 2017

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں اس لئے اسحاق ڈار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ 

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دھرنے ملک میں انتشار کے لیے دیے جا رہے ہیں، اپوزیشن کے منہ کو خون لگا ہوا ہے اور وہ ہر ایک کو گالیاں دیتے ہیں، حکومت کے خلاف نیلے پیلے قسم کے لوگ مل رہے ہیں، ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے حامی اور دوسری طرف اس کے مخالف ہیں، موجودہ حکومت کی مدت مکمل ہونے میں 5 ماہ رہ گئے ہیں، حکومت کے خلاف اتحاد بنانے والے انتظار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، اسحاق ڈار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے جب کہ اسحاق ڈار کی تذلیل نہیں بلکہ میڈل ملنا چاہیے کیوں کہ ان کی خدمات کا اعتراف دنیا کرتی ہے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ 90 کی دہائی میں بدقسمتی سے ہر 2 سال بعد حکومتوں کو گرایا گیا، ہماری پالیسیوں کو اپنا کر بھارت نے ترقی کا سفر طے کیا جب کہ بقراط اور سقراط ہر وقت معیشت ختم ہونے کا شور مچاتے ہیں اور صرف منفی امیج اجاگر کرتے ہیں، کہا جاتا تھا کہ 2030 تک پاکستان پتھر کے زمانے میں چلا جائے گا تاہم 2030 میں پاکستان کو ایک مضبوط معیشت بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈوب نہیں رہا بہتری کی طرف جارہا ہے جب کہ ڈالر کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ سے ایڈجسٹ ہے لہذا خطرے کی بات نہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ کراچی کا امن تباہ کرنے والوں کو ضرور سزا ملے گی اور اب کراچی کا امن کسی کو خراب نہیں کرنے دیں گے، سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے ملزم حماد صدیقی کو مجرموں کے تبادلے کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد پاکستان لایا جائے گا۔

Write on بدھ, 13 دسمبر 2017

کراچی: عمران خان نے کہا ہے کہ فاٹا میں دہشت گردی کی وجہ سے خلاء پیدا ہوا جسے پر کرنے کے لیے اسے فوری طور پر خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے۔ فاٹا اصلاحات بل پر شہر اقتدار سے کراچی تک ہلچل مچ گئی، سراج الحق کے بعد عمران خان نے بھی احتجاج کا اعلان کر دیا،
مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی کو بڑی رکاوٹ قرار دے دیا، کہتے ہیں آصف زرداری کا شاگرد بننا ہے تو مجھے 100 دفعہ مر کر زندہ ہونا پڑے گا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان (نیپ) کی شق 12 میں کہا گیا تھا کہ فاٹا کو سیٹل کرنا ہے، دہشت گردی روکنی ہے تو وہاں موجود خلاء کو پر کیا جائے۔عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے دباؤ میں حکومت اس معاملے کو 2022 تک لیکر جانا چاہتی ہے۔ماڈل ٹاؤن واقعے کی رپورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نجفی کی رپورٹ میں وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن واقعے میں 14 افراد کو پولیس کے ذریعے مارا گیا جبکہ 100 کو گولیاں لگیں۔تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا، سب پوچھ رہے ہیں کہ کیا ضرورت تھی خفیہ تبدیلی کی تاہم اس کے باوجود یہ پکڑے گئے۔انہوں نے کہا کہ ظفر الحق کی رپورٹ کا پوری قوم انتظار کررہی ہے۔قبل ازوقت انتخابات کے اپنے مطابلے کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
مسئلوں کا حل فوری انتخابات ہیں، ہر روز ملک میں مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔عارف علوی ہمارے ایم این اے ہیں، اب نظر آئے‘اس سے قبل عمران خان نے کراچی کے تاجروں سے ملاقات کی جس کے دوران تاجروں نے ان سے گلے شکوے کیے۔تاجروں کا کہنا تھا کہ عارف علوی ہمارے ایم این اے ہیں، اب نظر آئے، پی ٹی آئی کو ووٹ دیے لیکن مسائل حل نہیں ہوئے۔تاجروں کا موقف تھا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کے بعد کام نہیں کیا، کراچی میں دھرنوں کیلیے کوئی ایک جگہ مقرر کریں۔عمران خان نے بھی اعتراف کیا کہ وہ کراچی کا مناسب وقت دینے سے قاصر رہے کیوں کہ وہ ’مافیہ‘ سے لڑنے میں مصروف تھے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل صرف براہ راست میئر کے انتخاب سے حل ہوسکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ساری سیاسی جماعتوں کو معلوم تھا کہ 2013 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی، الیکشن کمیشن نے ن لیگ سے مل کر دھاندلی کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے پاناما پر سوال کیا تو انہوں نے جھوٹ پر جھوٹ بولے، اگر وہ احتجاج نہ کرتے تو پاناما کو دفن کر کے اس پر پھول اگے ہوتے۔عمران کان نے قائد آباد میں کارکنوں سے خطاب میں کراچی کو پی ٹی آئی کا شہر قرار دیدیا اور کہا کہ موقع ملا تو صحیح معنوں ميں بلدیاتی نظام لاکر دکھائيں گے۔

Write on بدھ, 13 دسمبر 2017

کراچی : فاٹا اصلاحاتی بل پر پیپلزپارٹی میں تقسیم نظر آنے لگی ہے جبکہ احسن اقبل پہلے ہی خبردا رکر چکے ہیں کہ اگر حلقہ بندیوں کا ترمیمی بل سینٹ سے فوری طور پیش نہ ہوا تو ملک میں نگران سیٹ اپ بھی آ سکتا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمانی حلقوں میں سر گوشیاں ہو رہی ہیں کہ حلقہ بندی بل پر پیپلز پارٹی دو حصوں میں منقسم ہو گئی ہے جبکہ بلاول بھٹو ترمیمی بل منظور کرانے کے حق میں ہے جبکہ آصف علی ذرداری اس کی مخالفت کرنے لگے ہیں ۔ذرائع کے مطابق ذرداری صاحب قدرے طویل مدتی کیئر ٹیکر سیٹ اپ چاہتے ہیں تاکہ پنجاب سے کسی طرح پازٹیو سگنل آ جائے کیونکہ حکمران جماعت آئے روز نت نئی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے اور اب اسعفے دینے کا نیا باب بھی کھل چکا ہے لیکن اس کے باو جود بھی حکمران جماعت کے لئے حوصلہ مند پہلو ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں مختلف دعوے کر نے کے باوجود بھی آپس میں تقسیم ہے ۔قومی اخبار کے مطابق حکمران جماعت کے لئے خطرے کا جو پہلو نظر آ رہا ہے کہ مذہبی ووٹ بینک ختم نبوت کے نام پر متحد ہو کر طاقت پکڑ رہا ہے۔ جو حکومت جماعت کے لئے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔

Write on بدھ, 13 دسمبر 2017

کراچی:امیر جماعت اسلامی سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے، امریکی صدر کے فیصلے کیخلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر امریکی سفیروں کو اسلامی ممالک سے
نکالا جائے اورامریکی صدر کے اپنے فیصلے سے ہٹنے تک امریکا کابائیکاٹ کیا جائے، سراج الحق کا کہناتھا کہ دشمنان اسلام کا اخری ٹارگٹ بیت المقدس نہیں،او آئی سی پیغام دے کہ بیت المقدس کی آزادی کیلئے انتہاتک جائیں گے، حکمرانوں کی جانب سے عوام کے جذبات کے مطابق حکمرانی نہیں ہوئی،ان کا کہناتھا کہ حکمرانوںنے معیشت سے متعلق مفروضے قائم کئے گئے،چند ماہ میں 15 ارب ڈالر کا خسارہ ہو گیا ہے،انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا احتساب جاری ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ باقی 436 افراد کا احتساب کیا جائے ،جن لوگوں پر کیسز ہیں ان کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جائے اورقرضے معاف کرانے اور قوم کو لوٹنے والوں کا احتساب کیا جائے ،امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں دن کی روشنی میں لوگوں کو قتل کیا گیا،مجرموں کو سزا دی جائے، سراج الحق نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن واقعہ سیاسی نہیں انسانی معاملہ ہے،دھرنا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ طاہر القادری کا اپنا ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت فاٹا اصلاحات بل کے راستے میں رکاوٹ ہے،فاٹا معاملے پر حکومت نے بار بار وعدہ کیا لیکن فاٹا اصلاحات بل پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کی بحالی کے بعد صوبائی حکومت سے اتحاد کا تعین ہوگا۔

Write on بدھ, 13 دسمبر 2017

نئی دہلی : افغان خواتین فوجیوں کا دستہ پہلی بار تربیت کے لیے بھارت پہنچ گیا، اس سے قبل ہندوستان افغانستان کے مرد فوجی اہلکاروں کو تربیت فراہم کرتا آرہا تھا، پہلی بار انڈین آرمی افغان کی خواتین اہلکاروں کو بھی تربیت دےگی، افغان خواتین فوجیوں کے اس دستے میں 18 بری، تین فضائی فوجی خواتین کے علاوہ وہ خواتین بھی شامل ہیں جو افغانستان کی سپیشل فورسز، وزارت دفاع کے اداروں، تعلقات عامہ، مالی اور قانونی امور سے منسلک ہیں، افغانستان میں کابل کے سفیر، منپربت وہرہ نے افغان میڈیا کو بتایا کہ مذکورہ تربیتی پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ افغان خواتین کو قیادت، جسمانی ورزش اور کمپیوٹر سے متعلق مہارت فراہم کی جائے، تاکہ وہ فوج میں اس کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔
تفصیلات کے مطابق افغان خواتین پر مشتمل ایک فوجی دستہ پہلی دفعہ بھارت بھیجا گیا ہے، جہاں بھارتی فوج، چنائی کی ایک فوجی اکیڈمی میں انہیں تربیت دے گی، اس سے پہلے ہزاروں کی تعداد میں افغان مرد فوجی بھارت میں تربیت حاصل کر چکے ہیں، افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان، دولت وزیری نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ کل 35 افغان فوجی خواتین تین ہفتوں پر محیط اس تربیتی کورس میں حصہ لین گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ خواتین انگریزی زبان سیکھنے اور کمپیوٹر کورسز میں بھی حصہ لیں گی،یہ پہلا موقع ہے کہ بھارتی فوج افغان خواتین فوجیوں کی تربیت کرے گی۔ خیال رہے کہ افغانستان اور بھارت کے مابین
بڑھتے ہوئے تعاون پر، پاکستان کئی بار تحفظات کا اظہار کر چکا ہے، پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے

Write on بدھ, 13 دسمبر 2017

قاہرہ: مصر کی عدالت نے 25 سالہ شائمہ احمد کو گذشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری کی وجہ وہ میوزک ویڈیو بنی جس میں وہ صرف ایک زیر جامہ پہنے دکھائی دیں اور جس میں انھوں نے ایک کیلا معنی خیز انداز میں کھایا۔مقامی میڈیا کا کہنا ہے
کہ منگل کے روز شائمہ احمد کو ’فحاشی کو ہوا دینے‘ اور ’ایک غیر مہذب فلم نشر کرنے‘ کے الزامات میں قصوروار پایا گیا۔اس ویڈیو کے ڈائریکٹر کو بھی دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے تاہم وہ اس وقت عدالت میں موجود نہیں تھے۔گرفتاری سے قبل شائمہ اپنی اس ویڈیو کے حوالے سے عوامی سطح پر معافی مانگ چکی ہیں۔ اس ویڈیو میں انھوں نے نغمہ ‘میرے مسائل ہیں’ گایا تھا جس سے مصر کے قدامت پرست شہریوں نے برہمی کا اظہار کیا۔انھوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ‘میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ یہ کچھ ہو گا، اور مجھے ہر کسی کی طرف سے اس قدر سخت حملے کا نشانہ بنایا جائے گا۔’ بعد میں انھوں نے یہ پیج حذف کر دیا۔اس ویڈیو میں شائمہ ایک کمرۂ جماعت میں کئی نوجوان لڑکوں کے ساتھ نظر آتی ہیں۔وہ تختۂ سیاہ کے سامنے کھڑی ہیں جس پر Class #69 لکھا ہوا ہے، اس کے بعد وہ جنسی طور پر معنی خیز انداز میں کیلا کھاتی ہیں۔اس منظر کے دوران ان کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں جن میں انھوں نے شب خوابی کا لباس پہن رکھا ہے۔یوم الصبا اخبار نے اس ویڈیو نشر ہونے کے اگلے دن لکھا: ‘شائمہ نوجوانوں کو اوباشی کا سبق دے رہی ہیں۔’پچھلے سال

454566
مصری عدالتوں نے چھ رقاصاؤں کو میوزک ویڈیوز میں فحاشی کے الزام میں چھ چھ ماہ قید کی سزا دی تھی۔اس کے علاوہ ایک اور گلوکار پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے جنھوں نے کہا تھا کہ دریائے نیل کا پانی انھیں بیمار کر دیتا ہے۔

Write on بدھ, 13 دسمبر 2017

 پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے فیوچر ٹوئر پروگرام کے چار سالہ پلان کا ڈرافٹ تیار کرلیا گیا، ذرائع کے مطابق فیوچر ٹوور پروگرام پر ممبر بورڈز کی جانب سے تجاویز سامنے آگئیں جس کی بنیاد پر ایف ٹی پی ڈرافٹ تیار ہوگیا ہے جس کو عبوری منظور کیلئے فروری میں چیف ایگزیکٹو کمیٹی اور پھر جون میں آئی سی سی بورڈ میں پیش کیا جائے گا، حیران کن طور پر ن چارسالوں میں پاکستان اور بھارت کی ایک بھی سیریز شامل نہیں کی گئی ، جب کہ پاکستان کو سب سے کم ون ڈ میچز دیے جانے کی تجویز ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی نے فیوچر ٹوئر پروگرام کا چار سالہ پلان تیار کرلیا، جس کی منظوری آئندہ برس فروری میں دی جائے گی،ذرائع کے مطابق چار سال کے دوران پاکستان ٹیم صرف 28 ٹیسٹ، 38 ون ڈے اور 38 ٹی ٹوینٹی میچز کھیلے گی، حیرت انگیز طور پر پاکستان کو سب سے کم ون ڈے میچز ملے ہیں، گرین شرٹس کو صرف 38 ون ڈے ملے جب کہ اس کے مقابلے میں زمبابوے کو 40 ، افغانستان کو 41 اور آئرلینڈ کو 42 ون ڈے ملے۔ٹیسٹ میچز بھی پاکستان کی تعداد 28 ہے، حتیٰ کے کمزور ٹیم بنگلہ دیش کو بھی پاکستان سے زیادہ 35 ٹیسٹ ملے ہیں، جب کہ چار سال کے کلینڈر میں پاکستان اور بھارت کی سیریز شامل نہیں

Write on بدھ, 13 دسمبر 2017

کراچی: پاکستان کی سیاسی ومذہبی جماعتوں نے امریکی صدر کے فلسطین و القدس سے متعلق یکطرفہ فیصلہ اور اعلان کو مسترد کرتے ہوئے شدید مذمت اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے اس عنوان سے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں آل پارٹیز پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یروشلم (القدس) فلسطین کا دارلحکومت ہے اور امریکا سمیت دنیا کے کسی بھی ملک کو یہ اختیاراور حق حاصل نہیں ہے کہ وہ فلسطین کا ایک انچ بھی غاصب صیہونیوں کو دیں، ان کاکہنا تھا کہ فلسطین پورا فلسطینیوں کا ہے اور اسرائیل کا وجود ناجائز اور غاصبانہ ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔آل پارٹیز کانفرنس سے سابق رکن قومی اسمبلی مظفر ہاشمی،حاجی حنیف طیب، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی محفوظ یارخان،سابق رکن قومی اسمبلی محمد عثمان نوری، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل شیخ، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مولانا باقر زیدی، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما سید طارق حسن،پاکستان تحریک انصاف کے اسرار عباسی،جمعیت علماء پاکستان کے علامہ قاضی احمد نورانی، نظام مصطفی پارٹی کے الحاج محمد رفیع،آل پاکستان سنی تحریک کے مطلوب اعوان قادری،پاکستان مسلم لیگ نواز کے ازہر علی ہمدانی،،نیشنل انٹر فیتھ کونسل آف پاکستان کے راؤ ناصر علی ، جناح کے سپاہی کے چیئر مین اویس ربانی اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل صابر ابو مریم نے خطاب کیا ۔اس موقع پر مقررین نے جکارتہ میں ہونے والی عالمی فلسطین کانفرنس میں ہونے والے اہم فیصلوں اور اعلان جکارتہ بھی پڑھ کر سنایا۔
سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کاکہنا تھا کہ امریکی صدر کا القدس (یروشلم) سے متعلق بیان در اصل امریکی و اسرائیلی شکست کا اعتراف ہے کیونکہ امریکا اور اسرائیل نے فلسطین کاز کو پس پشت ڈالنے کے لئے نت نئی سازشوں کا سہارا لیا اور بالآخر تمام سازشوں کی ناکامی کے بعد اب القدس کو غاصب صیہونیوں کا دارلحکومت قرار دینے کا یکطرفہ اعلان کر کے ثابت کر دیا ہے کہ امریکا فلسطین کاز کو ختم کرنے کے در پے ہے لیکن اس کے بر عکس پوری دنیا بالخصوص یورپ نے بھی امریکی صدر کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے جس کے بعد فلسطین کاز نہ صرف یورپی دنیا بلکہ پوری اسلامی دنیا میں بھی نئے جوش اور ولولے کے ساتھ ابھر کر سامنے آ رہاہے ۔ہم تحریک آزادئ فلسطین اور اسلامی مزاحمتی تحریکوں کی مکمل سیاسی واخلاقی حمایت کا اعلان کرتے ہین، اور اعلان کرتے ہیں کہ القدس (یروشلم) فلسطین کا دارلحکومت ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت تبدیل یا صیہونیوں کی گود میں نہیں ڈال سکتی۔اس موقع پر فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی جانب سے القدس کے مسئلہ پر خصوصی تصویری نمائشوں کے انعقاد کا اعلان بھی کیا گیا جو ملین مارچ اور حسین آباد میں ہونے والے تقریری مقابلوں کے پروگرام میں لگائی جائیں گی۔بعد ازاں شرکائے آل پارٹیز پریس کانفرنس نے امریکی صدر کے یروشلم سے متعلق یکطرفہ فیصلہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور امریکا مردہ باد، اسرائیل نا منظور سمیت فلسطین زندہ باد ، القدس کی آزادی کے نعرے بھی بلند کئے۔

صفحہ نمبر 1 ٹوٹل صفحات 1314

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ