ہیڈلائنز


وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا

Written by | روزنامہ بشارت

بھارتی شہر جالندھر کے ایک گاؤں میں 15 جون 1927 کو پیدا ہونے والے ابن انشا کا اصل نام شیر محمد تھا۔ ریڈیو پاکستان سمیت کئی سرکاری اداروں سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے کچھ عرصہ اقوام متحدہ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور اس دوران کئی یورپی و ایشیائی ممالک کے دورے کیے۔
بیسویں صدی میں اردو شاعری میں ایک منفرد تازگی، کمال جاذبیت، دلکشی اور حسن و رعنائی پیش کرنے والے ادیب و شاعر ابن انشا نہ صرف ایک مکمل شاعر تھے بلکہ ان کے اندر اردو زبان کو ادبی ستاروں سے مزین کرنے والی تمام خوبیاں و اصناف موجود تھیں۔
انشا جی نے اردو نظم ، غزل، کہانیوں، ناول، افسانوں، سفر ناموں، کالم نگاری، تراجم ،بچوں کے عالمی ادب، مکتوبات اور دیگر ادبی اصناف پر کام کیا۔ ان کے کلام کی ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ ان کے اشعار گیت و غزل انسانی جذبات کے قریب تر ہوکر دل کے تاروں کو چھولیتے۔
مشتاق احمد یوسفی نے ابن انشا کے مزاحیہ اسلوب کے حوالے سے لکھا تھا، ’بچھو کا کاٹا روتا اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے۔ انشا جی کا کاٹا سوتے میں مسکراتا بھی ہے‘۔
ابن انشا کی تصنیفات میں چاند نگر، دل وحشی، اس بستی کے اک کوچے میں، آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہیں تو چین کو چلیے، نگری نگری پھرا مسافر، خمار گندم ، اردو کی آخری کتاب اور خط انشا جی کے شامل ہیں۔
استاد امانت علی کی گائی ہوئی معروف غزل ’انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘ کے خالق بھی ابن انشا تھے۔
ابھی ادب و فن کے متلاشی ان کی صلاحیتوں سے پوری طرح استفادہ بھی نہ کرسکے تھے کہ 11 جنوری 1978 کو انشا جی دنیا سے کو چ کر گئے۔ اردو ادب کا یہ عظیم ستارہ کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں آسودہ خاک ہے۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ