ہیڈلائنز


انتظار صاحب 7 دسمبر 1923ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے

Written by | روزنامہ بشارت

قیامِ پاکستان کے بعد لاہور کا رخ کیا اور پھر باقی زندگی یہیں گزری۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ ’لاہور نامہ‘ کے عنوان سے روزنامہ مشرق میں شائع ہونے والے کالم خاصے مشہور ہوئے اور ریڈیو کے لیے بھی کالم لکھتے رہے۔ کالم نویسی کا سلسلہ آخری برسوں تک جاری رہا۔
فکشن نگاری کا آغاز تو بٹوارے کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔ اپنے اسلوب، لہجوں پر گرفت، اساطیری فضاء اور کردار نگاری سے جلد قارئین کو متوجہ کرلیا۔ ہجرت اُن کا خاص موضوع تھا۔ ماضی کی بازگشت، پچھتاوے، روایت میں پناہ اور پرانی اقدار کے بکھرنے کا نوحہ اُن کی انفرادیت ٹھہرے۔ وہ علامتی اور استعاراتی اسلوب کو نئے ڈھنگ سے استعمال کرنے والے افسانہ نگار کہلائے۔ گو اُن کے فکشن میں روایتی ’عوامی اپیل‘ نہیں تھی، اُن کی تخلیقات قاری سے توجہ مرکوز کرنے اور مطالعے کا تقاضا کرتی تھیں، مگر وہ اپنے چاہنے والوں کا حلقہ پیدا کرنے میں کامیاب رہے۔ انتظار حسین کا 2 فروری 2016ء کو انتقال ہوا۔
اُنہیں متعدد ملکی و غیرملکی اعزازات سے نوازا گیا، حکومت نے ستارہ امتیاز پیش کیا، اکادمی ادبیات کی جانب سے کمال فن جیسا اعزاز اُن کے حصے میں آیا۔ ستمبر 2014ء میں حکومتِ فرانس نے اُنہیں آفیسر آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز پیش کیا۔ یاد رہے، انتظار حسین اردو کے پہلے اور فی الحال اکلوتے ادیب ہیں، جنہیں مین بُکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔
اپنوں کی تو یہی خواہش تھی کہ یہ عالمی اعزاز انہیں ملے، مگر روس سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر لڈمیلا کا مؤقف بھی بڑا اہمیت رکھتا ہے، جنہوں نے لاہور کی ایک کانفرنس میں دو ٹوک انداز میں کہا، 'انتظار حسین کو مین بُکر پرائز نہ ملنا سراسر ناانصافی تھی۔' ڈاکٹر لڈمیلا ہی نے انتظار حسین کے چیخوف کے ایک ترجمے پر یوں تبصرہ کیا تھا،
'اِسے پڑھتے ہوئے مجھے یوں لگا، جیسے چیخوف کا ترجمہ نہیں، بلکہ چیخوف کو پڑھ رہی ہوں۔'
راقم الحروف کے نزدیک یہ الفاظ کسی عالمی اعزاز سے کم نہیں تھے۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ