ہیڈلائنز


مذہبی شدت پسند پوری قوم کو ہائی جیک کرسکتے ہیں

Written by | روزنامہ بشارت

’بات کہاں جا رہی ہے دل میں ایک شک بیٹھ گیا ہے کہ یہ تو اب کسی کے کنٹرول میں نہیں ہیں، یہ تو کسی وقت بھی پورے ملک کو بند کرسکتے ہیں‘۔

جامی کا کہنا ہے کہ ’صورتحال اس نوعیت کی ہے کہ جس سے مذہبی شدت پسند پوری قوم کو ہائی جیک کرسکتے ہیں، ہمارے بچے بھی وہی دیکھیں گے جو ہم دیکھتے آئے ہیں، یہ تو نا امیدی اور حوصلہ شکنی ہے۔
میں یہاں ہی رہوں گا، ہم منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ بچوں کو یہاں سے نکال دیں، ایک ایسا ملک ہو جہاں بچہ گھر سے باہر نکل کر گھوم تو سکے۔ یہاں تو یہ ہے کہ کوئی محافظ رکھو، تاہم بچوں کو امریکہ کسی صورت میں نہیں بھیج رہا کیونکہ ان تمام چکروں میں ان کا بھی بڑا ہاتھ ہے‘۔
جامی نے فلم سازی کی تربیت امریکہ سے حاصل کی۔ انھوں نے بلوچستان پر فلم ’مور‘ بنائی۔ اس کے علاوہ سٹرنگز کا مشہور گیت ’میں تو دیکھوں گا، کچھ خود کرنا ہوگا‘ کی ہدایت کاری کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ سب کچھ اپنے پیسے لگا کر کیا۔
’یقینًا درد سے آرٹ نکلتا ہے لیکن درد اتنا بھی نہ ہو کہ وہ آرٹ ہی ختم ہو جائے، ایک امید بھی ہونی چاہیے۔ یہاں تو سب سے پہلے یو ٹیوب، فیس بک اور ٹوئٹر کو بند کرنے کی بات کی جاتی ہے، لیکن مولانا عبدالعزیز کو بند کرنے کی بات نہیں کرسکتے، آرٹ میں بھی ایک بیلنس رکھنا پڑتا ہے، اگر آپ تھوڑا زیادہ دکھائیں گے تو نامعلوم نمبر سے کال آ جائے گی‘۔
جامی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے شہری لوگوں کے مرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ہزارہ دھرنے دیتے ہیں لاشیں سامنے پڑی ہوتی ہیں۔ ہر مہینے وہ مارے جاتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول میں دو سو بچے مار دیے سب بھول گئے، دو ہفتوں کے بعد سارے بیٹھ کر کافی پی رہے تھے۔ یہ تو ایک قوم ہی الگ قسم کی بن گئی، نہ کھڑے ہوتے ہیں نہ باہر نکلتے ہیں، بس روتے رہتے ہیں‘۔
جامی کا کہنا ہے کہ وہ کوئی بڑے ترم خان نہیں ہیں، فیض احمد فیض نہیں کہ لڑتے رہیں۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ