ہیڈلائنز


دیوالی کو خاص اہمیت حاصل ہے یہ روشنیوں کا تہوار ہے

Written by | روزنامہ بشارت

دیوالی کی تاریخ بے حد قدیم ہے اورہندو مت کے قدیم پرانوں میں اس کا ذکر ’روشنی کی اندھیرے پر فتح کے دن‘ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ دیوالی در حقیقت 5 روزہ تہوار ہے جس میں اصل دن ہندو کلینڈر کے مطابق ’کارتیک‘ نامی مہینے کا پہلا دن ہے۔ تقریبات کا آغاز 2 روز پہلے کیا جاتا ہے اور یہ نئے چاند کے طلوع ہونے کے 2 دن بعد تک جاری رہتی ہیں۔

ہندو برادری اس موقع پرخصوصی اہتمام کرتی ہے۔ نئے لباس زیب تن کیے جاتے ہیں، گھروں اور بازاروں کی صفائی ستھرائی کی جاتی ہے

دیا اور رنگولی دیوالی کے تہوار کے اہم جزو ہیں اور بچے اس موقع پر آتش بازی کرتے ہیں جبکہ مندروں میں لکشمی پوجا کا اہتمام کیا جاتا ہے اور پرساد تقسیم ہوتا ہے۔

مندرکے سامنے کئی بچے پٹاخے پھوڑنے اور پھلجھڑیاں جلانے میں مشغول تھے اور مندر میں داخل ہوتے ہی اگر بتی اور گلاب کی ملی جلی خوشبو اور ندیم نامی ایک خدمت گار نے ٹیم کا استقبال کیا۔

شری رت نیشور مہا دیو مندر کم از کم ڈیڑھ صدی سے اس مقام پر قائم ہے اور اسے کراچی میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں ہندو مت کے لگ بھگ 100 بھگوانوں کی مورتیاں موجود ہیں جنہیں انتہائی خوبصورتی سے شیشے کی دیواروں میں آراستہ کیا گیا ہے۔

مندر میں آنے والے زائرین اپنے عقیدے کے مطابق یہاں مختلف دیوی دیوتاؤں کے آگے اگر بتیاں جلا کر اپنی مذہبی شردھا (عقیدت) کا اظہار کر رہے تھے حالانکہ مندر انتظامیہ کی جانب سے جگہ جگہ بورڈ آویزاں تھے جن پر اگر بتی جلانے کی ممانعت درج تھی۔

اس روز مندر میں آنے والے زائرین کے چہرے دیوالی کی خوشی سے تمتمارہے تھے اوران کے لباس اور آرائش و زینت سے اس بات کا اظہار ہو رہا تھا کہ آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار منا رہی ہے۔

دیوالی کے موقع پر مندر میں جا بجا جلتے دیے، اگربتیوں سے اٹھتا ہوا دھواں اورارد گرد موجود دیوی دیوتاؤں کے قد آدم اور دیو ہیکل مجسمے مل جل کرماحول کو خوابناک اور پر کیف بنا رہے تھے جس کے سبب مندر میں موجود ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر ایک عجب مسرور کن کیفیت طاری ہو رہی تھی۔

 

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ