ہیڈلائنز


اکیسویں صدی میں انکشاف ہوا کہ ریاست راخین کے سمندری علاقوں میں تیل و گیس کے بھاری ذخائر موجود ہیں

Written by | روزنامہ بشارت

پچھلے ایک برس کے دوران چار لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان میانمار(برما) کی ریاست راخین سے ہجرت کرکے بنگلادیش اور دیگر ممالک میں آباد ہوچکے ہیں۔ اس ہجرت کے دوران روہنگیا مسلمانوں کو قتل و غارت، خواتین کی عصمت دری، بھوک، گھروں کی تباہی اور مال و اسباب سے محرومی جیسے چرکے بھی برداشت کرنے پڑے۔

 

ان کی تباہی و بربادی کے ہولناک مناظر دیکھ کر دنیا میں شور مچ گیا مگر افسوس،ان کا استحصال روکنے کے لیے اقوام عالم نے ایک بھی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ زبردست احتجاج سے البتہ یہ نتیجہ ضرور نکلا کہ برمی سکیورٹی فورسز اور انتہا پسند بدھی تنظیموں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری آپریشن روک دیا۔

بظاہر یہی لگتا ہے کہ ریاست راخین میں بدھ مت کے ماننے والوں کی اکثریت مذہبی اور معاشی وجوہ کی بنا پر اقلیتی روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہے۔ مگر حالیہ تصادم دراصل دور جدید میں جنم لینے والی نئی گریٹ گیم کا بھی حصہ ہے۔ اس گریٹ گیم میں ایک سمت امریکا، بھارت اور ان کے ایشیائی اتحادی (خصوصاً جاپان اور جنوبی کوریا) استادہ ہیں، تو دوسری طرف چین، روس اور ان کے اتحادی کھڑے ہیں۔ اس گریٹ گیم کا مقصد یہ ہے کہ ایشیا و افریقہ میں اپنی طاقت اور اثرو رسوخ بڑھایا جائے۔

 

دنیا کی اکلوتی سپرپاور، امریکا کی مفاد پرستی، خود غرضی اور غرور دو بڑی طاقتوں، چین اور روس کو قریب لاچکا ہے۔ یہ دونوں طاقتیں اب مل کر امریکی بالادستی کا مقابلہ کرنا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان کی خواہش ہے کہ اپنے اپنے عظیم منصوبوں یعنی ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ (چینی) اور ’’یورشیا اکنامک کونسل ‘‘(روسی) کا ادغام کردیا جائے۔ ان کے ادغام سے ’’یورشیا‘‘ (ایشیا اور روس) معاشی، سیاسی اور عسکری لحاظ سے دنیا کا سب سے طاقتور خطہ بن جائے گا۔ تاریخ سے عیاں ہے کہ امریکی حکمران طبقہ کسی حریف کو اپنے مقابل کھڑا ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ ظاہر ہے، یوں دنیا پر اس کی حکمرانی خطرے میں پڑ جائے گی۔

اس لیے امریکی اسٹیبلشمنٹ سرتوڑ کوششیں کررہی ہے کہ چین اور روس کے منصوبوں کو کامیاب نہ ہونے دے اور ان کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹیں کھڑی کردی جائیں۔ اس مقصد کی لیے امریکا نے ایشیا میں بھارت سے بھی مدد مانگ لی ہے۔ میانمار کی ریاست راخین میں ابتری و فساد اسی حکمت عملی یا گریٹ گیم کی ایک کڑی ہے۔

معاملہ یہ ہے کہ اوائل اکیسویں صدی میں انکشاف ہوا کہ ریاست راخین کے سمندری علاقوں میں تیل و گیس کے بھاری ذخائر موجود ہیں۔ چناں چہ میانمار کا پڑوسی چین ان میںدلچسپی لینے لگا۔ 2006ء سے چین نے راخین کے ساحلی شہر، کیاؤ کپایو میں پائپ لائن تعمیر کرنے کا اعلان کردیا۔ مقصد یہ تھا کہ مشرقی وسطیٰ سے آنے والے تیل کو بذریعہ پائپ لائن چین تک پہنچایا جاسکے۔

اس وقت تک بھارت بھی علاقائی سپرپاور بننے کے خواب دیکھنے لگا تھا۔ چناں چہ بھارتی حکومت نے بھی جلد ہی میانمار میں اثرورسوخ بڑھانے کے لیے اعلان کردیا کہ وہ ریاست راخین کے صدر مقام، سیتوی میں بندرگاہ تعمیر کرے گا جو مسلم کتب تاریخ میں اخیاب کہلاتا ہے۔اس طرح بھارتی حکومت ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتی تھی۔ اول برما میں اس کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہوجاتا۔ دوم شمال مشرقی بھارتیوں کو ایک نیا راستہ مل جاتا۔اس منصوبے کو Kaladan Multi-Modal Transit Transport Projectکا نام دیا گیا۔

شمال مشرق بھارت میں واقع سات ریاستوں کا دیگر بھارتی ریاستوں سے صرف سیلگوری راہداری کے راستے رابطہ استوار ہے۔ چونکہ ٹریفک بہت زیادہ ہے لہٰذا یہ راستہ اکثر بند رہتا ہے۔ یوں ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ بھارتی حکومت کی سرتوڑ کوشش رہی ہے کہ بنگلادیش خلیج بنگال کے راستے سات ریاستوں کو متبادل راستہ دے ڈالے مگر بنگلادیشی حکمران بھارت کو اتنا قریب نہیں کرنا چاہتے۔ یہی وجہ ہے، بھارتی حکومت نے میانمار کے راستے دوسری راہ نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔

چین کی 770 کلو میٹر طویل پائپ لائن تعمیر ہوچکی۔ اس کے ذریعے دو لاکھ ساٹھ ہزار بیرل خام تیل روزانہ چین بھجوایا جاسکتا ہے۔ چین اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ چار لاکھ بیرل تیل حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔2017ء کے اوائل میں بھارت نے بھی سیتوی بندرگاہ کی تعمیر کا کام مکمل کرلیا۔ ماہ اپریل میں یہ بندرگاہ میانمار حکومت کے حوالے کردی گئی۔ بھارت سیتوی سے شمال مشرقی بھارتی ریاستوں تک ایک گیس پائپ لائن بھی تعمیر کرنا چاہتا ہے۔

میانمار حکومت کی ریاستی دہشت گردی
راخین کے ساحلوں پر تیل و گیس کی دریافت کے بعد میانمار حکومت ریاست کے مختلف علاقوں میں زمینوں پر قبضہ کرنے لگی۔ حکومت ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنا چاہتی تھی۔ زمینوں پر غاصبانہ قبضے میں تیزی 2011ء کے بعد آئی۔

2011ء تک فوجی جنتا کو احساس ہوچکا تھا کہ یورپی ممالک اور امریکا کی معاشی پابندیوں نے قومی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ چناں چہ فوجی جنتا دنیائے مغرب سے دوستی کی پینگیں بڑھانے لگی۔ اپوزیشن لیڈر آنگ سوئی کو الیکشن لڑنے اور پھر اسے جیتنے کی بھی اجازت دے دی گئی۔

ان اقدامات کا دنیائے مغرب نے مثبت جواب دیا۔ معاشی پابندیاں اٹھالی گئیں اور یورپی و امریکی سرمایہ کار میانمار میں سرمایہ کاری کرنے لگے۔ چناں چہ ملک میں معاشی سرگرمیاں بڑھ گئیں اور نت نئے ترقیاتی منصوبوں کی فائلیں کھل گئیں۔ مثال کے طور پر قدرتی وسائل (تیل، گیس، معدنیات وغیرہ) کے منصوبے، فروغ سیاحت کے پروگرام، وسیع و عریض زرعی فارم، سڑکوں و شاہراہوں کی تعمیر اور ان تمام منصوبوں کے لیے زمینوں کی ضرورت تھی۔

ریاست راخین کے بیشتر ساحلی علاقوں میں روہنگیا مسلمان آباد تھے۔ فوجی جنتا اور میانمار کا حکمران سیاسی طبقہ ان مسلمانوں کو بنگال سے آئے ہوئے غیر قانونی مہاجر قراردیتا ہے جبکہ راخین کے بدھ باشندے انہیں معاشی طور پر اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں میں شرح پیدائش بہت زیادہ ہے۔ لہٰذا ایک دن وہ راخین میں اکثریت حاصل کرلیں گے۔ یوں وہ تمام ملازمتوں پر قبضہ کرلیں گے۔

جب تک ملک میں فوجی جنتا سیاہ و سفید کی مالک تھی، وہ پورے میانمار میں بزور نجی املاک پر قبضہ کرتی رہی۔ لیکن جب ظاہری طور پر ہی سہی، مملکت میں جمہوریت آگئی، تو اب فوجی جنتا کھلے عام شہریوں کے حقوق پر ڈاکا نہیں ڈال سکتی تھی۔ اسی لیے فوجی جنتا نے فیصلہ کیا کہ روہنگیا مسلمانوں اور راخین میں آباد بدھوں کو آپس میں لڑا دیا جائے تاکہ اسے ساحلی علاقوں کی زمینوں پر قبضہ کا موقع مل سکے۔

چناںچہ ایک منصوبے کے تحت میانمار فوج نے مئی 2012ء میں پورے راخین میں یہ افواہ پھیلا دی کہ رامری نامی گاؤں میں تین روہنگیا نے ایک بدھ عورت کی عصمت دری کرکے اسے مار ڈالا ہے۔ اس افواہ کے بعد پوری ریاست میں بدھ انتہا پسند روہنگیا پر حملے کرنے لگے۔ انہوں نے روہنگیا کے سینکڑوں گاؤں جلا ڈالے۔ کئی روہنگیا قتل ہوگئے۔ ہزاروں اپنی جانیں بچانے کی خاطر بنگلادیش ہجرت کرگئے۔

اکتوبر 2012ء میں امریکی صدر، بارک اوباما نے میانمار کا دورہ کیا۔ یوں امریکی استعمار کے قدم ب وہاں بھی آپہنچے۔ امریکی اب میانمار میں اتنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے خفیہ و عیاں سازشیں کرنے لگے۔ ان کی سرتوڑ کوشش تھی کہ مملکت سے چین کا اثرو رسوخ کم کردیا جائے۔ امریکیوں نے فوجی جنتا کو لارے دیئے کہ اگر وہ چین پر انحصار کم کردے، تو امریکہ مملکت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر تیار ہے۔

چین میانمار کا ایک بڑا حمایتی ہے مگر دونوں کی حکومتوں کے مابین اختلافات بھی موجود ہیں۔ وجہ یہ کہ قوم پرست میانماری بدھ مملکت میں آباد چینی نژاد باشندوں کو وقتاً فوقتاً ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں۔

2012ء کے بعد میانمار کے حکمران طبقے کو امریکی و یورپی حمایت میسّر آئی، تو وہ غرور میں مبتلا ہوگیا۔ چناں چہ وہ مختلف معاملات میں چین کی راہ میں روڑے اٹکانے لگا۔ مثال کے طور پر تیل پائپ لائن سے تیل کی ترسیل کا معاہدہ ملتوی کردیا۔(لے دے کے بعد یہ معاہدہ حال ہی میں طے پایا) حتیٰ کہ بعض منصوبے چینیوں سے لے کر امریکا، یورپ یا بھارت کو دے دیئے گئے۔ تاہم چینی حکومت نے ایسا کوئی ناروا قدم نہیں اٹھایا جس سے میانمار حکومت ناراض ہوجاتی۔ چینی حکمران تدبر سے حالات کا جائزہ لیتے رہے۔

اُدھر ریاست راخین میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فساد جاری رہا جس نے رفتہ رفتہ ’’نسل کشی‘‘ کی صورت اختیار کرلی۔ پانچ سال قبل راخین کے صدر مقام، سیتوی میں پچاس ہزار روہنگیا مسلمان آباد تھے۔ آج ان کی تعداد صرف ایک ہزار رہ گئی ہے۔ فوج، پولس اور قوم پرست بدھ باشندوں نے مل کر روہنگیا مسلمانوں پر ایسا خوفناک حملہ کیا کہ ریاست کے نچلے اور وسطی علاقوں سے وہ تقریباً غائب ہوچکے ہیں۔ ان کی بیشتر تعداد اب بنگلادیش سے لگنے والے علاقوں میں مقیم ہے۔

یہ نسل کشی اسی لیے کی گئی تاکہ راخین کے ساحلی اور وسطی علاقے حکومت کے قبضے میں آجائیں۔ ان علاقوں پر کسی زمانے میں لاکھوں روہنگیا مسلمان آباد تھے۔ مگر اب وہاں بدھ باشندے آباد ہوچکے یا مختلف ترقیاتی منصوبے وجود میں آرہے ہیں۔ ایسے اکثر منصوبوں کے لیے امریکی یا یورپی سرمایہ کار یہ دولت فراہم کررہے ہیں۔ مگر مغربی میڈیا یہ حقیقت پوشیدہ رکھتا ہے۔

مغربی میڈیا تو مسلسل یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ چین میانمار حکومت کا سرپرست بنا بیٹھا ہے اور یہ کہ میانمار فوج چین کے ترقیاتی منصوبے شروع کرانے کی خاطر ریاست راخین سے روہنگیا مسلمانوں کو بے دخل کررہی ہے تاکہ ان کی زمینوں پر قبضہ کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی اب چینیوں کو راخین ریاست میں کم ازکم شدید مشکلات کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ چین تیل وگیس آسانی سے حاصل نہ کر سکے۔یوں دوررس لحاظ سے ون روڈ ون بیلٹ منصوبے کو بھی زک پہنچے گی۔مذید براں تیل وگیس سے امریکی حکمران طبقے کی رغبت ’’مثالی وتاریخی‘‘ ہے۔

کم ہی لوگوں کو علم ہے کہ میانمار میں امریکی منصوبے شروع کرنے کے سلسلے میں بنائی گئی ٹاسک فورس کا سربراہ مشہور یہودی سرمایہ کار جارج سورس ہے۔یہ شخص خفیہ سازشیں کرنے میں یدطولی رکھتا ہے۔یہ بعید نہیں کہ اس نے میانمار فوج سے سازباز کر کے راخین میں خانہ جنگی شروع کرائی تاکہ چینی وہاں موجود قدرتی وسائل سے استفادہ نہ کرسکیں۔یاد رہے کہ چینی جہاں بھی جائیں،محاذ آرائی سے گریز کرتے ہیں۔ویسے بھی وہ روہنگیا مسلمانوں پہ حملے کرا کر عالم اسلام کی مخالفت مول نہیں لے سکتے۔

یہ سچائی بھی کم ہی عیاں ہوئی کہ اب اسرائیل میانمار فوج کو اسلحہ فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک بن چکا۔روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی اسلحہ ہی استعمال ہو رہا ہے۔اقوام متحدہ نے حال ہی میں اسرائیلی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ وہ میانمار کو اسلحہ فراہم نہ کرے مگر اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔امریکی اور اسرائیلی حکمران اقوام متحدہ کی کوئی پروا نہیں کرتے بلکہ اسے ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

امریکا کی پشت پناہی کے باعث ہی میانمار کی وزیراعظم اور امن کی خودساختہ داعی،آنگ سان سوچی نے دھڑلے سے اعلان کر دیا کہ وہ دنیا والوں کی پروا نہیں کرتی اور یہ کہ حکومت اپنے حساب سے روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے سے نمٹے گی۔ریاست راخین میں جاری گریٹ گیم کی کروٹیں یہ امر آشکارا کرتی ہیں کہ میانمار فوج اب تیل وگیس کے علاقوں میں کبھی روہنگیا کو آباد ہونے نہیں دے گی۔ممکن ہے،بعض بالائی علاقوں میں انھیں پناہ مل جائے مگر فوج وقتاً فوقتاً ان پہ حملے کرتی رہے گی تاکہ روہنگیا مجبور ہو کر بنگلادیش یا دیگر ممالک میں چلے جائیں۔صد افسوس کہ جائے امن کی تلاش میں بھٹکنا روہنگیا مسلمانوں کا شاید مقدر بن چکا ہے۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ