ہیڈلائنز


تین سال کا بچہ ڈوبتا نظر آتا ہے تو آپ کیا کریں

Written by | روزنامہ بشارت

فرض کریں آپ تیار ہوکر گھر سے نکل کر کسی کام سے جا رہے ہیں اور گھر کے سامنے پارک میں بنے چھوٹے سے تالاب میں آپ کو ایک تین سال کا بچہ ڈوبتا نظر آتا ہے تو آپ کیا کریں گے؟ آپ آگے بڑھ کر اُس کی جان بچالیں گے، کیوں؟ کیونکہ آپ اِسے اپنا فرض سمجھیں گے کہ ایک چھوٹا بچہ جو نہ بول سکتا ہے نہ ٹھیک طرح سے چیخ سکتا ہے اور نہ ہی اُسے اتنی سمجھ تھی کہ وہ تالاب کے پاس نہ جاتا، تو اِس لیے آپ کا فرض بنتا ہے یا نیکی کا کام ہے کہ اُس بے کس و بے سہارا کی مدد کریں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کو بھی سکون ملے گا، انسانی جان بچانے کی خوشی بھی ہوگی اور لوگ بھی خوب تعریف کریں گے اور اگر بچے کے والدین مل گئے تو وہ تو آپ پر اپنی جان نچھاور کردیں گے۔

مگر یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ آپ اُس کی جان نہ بچائیں۔ آپ کہیں کہ آپ تو کام سے جا رہے ہیں اور اُس میں تاخیر ہوجانا کوئی اچھی بات نہیں۔ یا یہ کہ آپ کا مہنگا سوٹ تالاب کے پانی سے خراب ہوجائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کے موبائل اور گھڑی میں بھی پانی چلے جائے اور ویسے بھی بچے سے کون سا آپ کی رشتہ داری ہے؟ اُس کے ماں باپ کی ذمہ داری تھی کہ اُس پر نگاہ رکھیں یا حکومت کو یہاں کوئی لائف گارڈ بٹھانا چاہیئے تھا۔ وہ بچہ آپ کی ذمہ داری کیونکر ہوگیا؟

ہم میں سے 99 فیصد افراد پہلی صورت پر عمل کریں گے۔ کیونکہ جب بھی ہمیں اچھا کام کسی معمولی سی پریشانی یا قیمت پر کرنے کا موقع ملے ہم ضرور کرتے ہیں۔ قیمت تھوڑی اور منافع زیادہ، دین میں بھی اور دنیا میں بھی۔ لیکن کچھ سنگدل لوگ یہ بھی نہیں کرتے۔ میں ایک صاحب کو جانتا ہوں جنہوں نے موٹر سائیکل کے حادثے کے سبب بیچ سڑک پر تڑپنے والے نوجوان کو اُٹھا کر اپنی گاڑی میں صرف اس لئے نہیں ڈالا تھا کہ نوجوان کے خون سے اُن کی نئی گاڑی کے سیٹ کور خراب ہونے کا خدشہ تھا۔ جہاں ہمارے معاشرے میں کسی کا خون کسی کی چائے کے برابر بھی اوقات نہیں رکھتا، وہاں وہ بھی یہی کہتے رہے کہ نہ تو میں نے ایکسیڈنٹ کیا ہے، نہ میرا رشتہ دار ہے اور نہ میں حکومتی کارندہ ہوں تو میں کیونکر ذمہ دار ہوا؟

خیر! میں عرض کررہا تھا کہ ایک معمولی قیمت (پیسہ، وقت، ذرائع) کے عِوض ملنے والی نیکیاں تو ہم کر ہی لیتے ہیں مگر ذرا سی کوشش سے کچھ نادیدہ نیکیاں بھی انجام دی جاسکتیں ہیں۔ مثلاََ اگر وہ بچہ آپ کے گھر کے سامنے کے بجائے صومالیہ میں ہو تو؟ اگر آپ کے پاس اُس بچے کا نام اور تصویر بھی ہو تب بھی آدھے لوگ مدد کرنے سے انکار کردیں گے کیونکہ اتنی دور ہونے والے واقعہ سے اُن کا کیا لینا دینا؟ لیکن اگر آپ کو اُس بچے کا نام معلوم نہ ہو اور تصویر بھی نہ ہو تب تو شاید کوئی ایک بھی اُس بچے کی مدد کرنے کو تیار نہ ہو۔

میں آپ کو ایک سچی مثال دوں؟ اگر آج مسجد میں اعلان ہو کہ ہمیں کچھ پیسے چائیے اور اگر رقم جمع نہ ہوسکی تو شہر کے بیچوں بیچ اسٹیڈیم میں جمع 18 ہزار کم سِن بچے شام تک مرجائیں گے تو آپ خود سوچیں کہ یہ کتنی بڑی میڈیا نیوز ہوگی؟ لوگ اور حکومتیں انہیں بچانے کے لیے کیا کچھ نہیں کریں گے؟ مگر ایسا نہیں ہوا، بچے مرگئے۔ نہ کوئی خبر چلی، نہ کوئی فنڈ ریزنگ، نہ کسی کا دل پسیجا۔

یونیِسف کی رپورٹ کے مطابق سالانہ 6.6 ملین (چھیاسٹھ (66) لاکھ) بچے پانچ سال کی عمر سے پہلے انتہائی غربت میں غذائی قلت کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں۔ دس سال پہلے تک تو اُن کی تعداد 12 ملین (ایک کروڑ 20 لاکھ) سے بھی زیادہ تھی۔ 6.6 ملین کا مطلب ہوا کوئی پانچ (5) لاکھ بچے ہر ماہ، قریباََ 18 ہزار ایک دن میں اور 12 بچے فی منٹ دنیائے فانی سے کوچ کرجاتے ہیں۔ اِس منٹ کا اندازہ صرف تب ہوتا ہے جب اُن 12 میں سے خدانخواستہ آپ کا کوئی ایک ہو۔

دنیا میں آج بھی قریباََ ایک ارب لوگوں کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں۔ ہم زندگی میں عموماََ جو چیزیں استعمال کرتے ہیں وہ تقریباََ تمام لگژری میں ہی شمار ہوتی ہیں۔ اگر آپ کے پاس پینے کا صاف پانی دستیاب ہے تو یقین جانیے، جوسز، مشروبات، چائے، کافی، سب کچھ پینے کے لحاظ سے لگژری میں ہی آئیں گے۔

اِن اعداد و شمار کو پڑھ کر ہم عموماََ کہتے ہیں کہ ’میں کیا کرسکتا ہوں؟‘، اگر آپ بھی یہی سوچ رہے ہیں تو آئیے میں آپ کو طریقہ بتاتا ہوں۔ اگر میں آپ سے کہوں کہ آپ عہد کرلیں کہ آپ زندگی میں دس لاکھ، 50 لاکھ یا ایک کروڑ کسی اچھی خیراتی تنظیم کو صدقہ کریں گے تو آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟

70 سال کی عمر تک اگر آپ صرف 40 روپے دن کے نکال دیں تو یہ مہینے کے 1200 اور سال کے 15 ہزار روپے بنتے ہیں، یوں آپ زندگی میں باآسانی دس لاکھ صدقہ کرسکتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اِس سے کہیں زیادہ تو ہم باہر کھانے پر لگا دیتے ہیں۔ یعنی سال میں 2 بار باہر کھانا نہ کھائیں یا ہفتے میں ایک بار ہائی ٹی پر نہ جائیں تو یہ رقم نکل آئے گی۔ اِسی طرح اگر مہینے کے 6 ہزار نکال سکیں تو یوں زندگی میں 50 لاکھ اور اگر 12 ہزار نکال سکیں تو پوری زندگی میں نکالی گئی یہ رقم کروڑ سے اوپر چلی جائے گی۔

ہم روز کے 8 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ ویک اینڈ نکال کر 22 دن بنے۔ یعنی مہینے کے 176 گھنٹے اور سال کے بنے 2112 گھنٹے۔ 40 سال کی کام کی عمر میں بنے 84 ہزار گھنٹے۔ ایک شخص جو صرف 25 ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے تو اُس کا فی گھنٹہ ریٹ کوئی 150 روپے ہوتا ہے۔ 50 ہزار والے کا 300 اور لاکھ والے کا 600۔

25 ہزار روپے کمانے والا اپنی زندگی میں اگر کبھی ترقی نہ بھی کرسکے تو بھی 12 ملین یعنی 1 کڑور 20 لاکھ لاکھ کماتا ہے۔ 50 ہزار والا 24 ملین یعنی دو کڑور 40 لاکھ اور لاکھ والا 48 ملین یعنی چار کڑور 80 لاکھ کماتا ہے۔

اگر صرف 25 فیصد بھی اچھے کاموں پر لگا دیں تو چار یا پانچ ملین یعنی چالیس (40) سے پچاس (50) لاکھ دینا تو مذاق کی بات ہے۔

برکلے کیلی فورنیا میں سیوا فاؤنڈیشن ہے جو 7 ہزار 5 سو ڈالر میں 100 نابینا افراد کی بینائی لوٹا دیتی ہے۔ یعنی آپ پاکستانی صرف 7 ہزار پانچ سو روپے میں ایک نابینا کو آنکھوں کی نعمت دے سکتے ہیں۔ ڈائریا، بھوک، ملیریا تو اِس سے بھی کئی سستے ہیں۔ محفوظ ڈلیوری کِٹ جو صرف 11 ڈالر یعنی پاکستانی1150 روپے کی ملتی ہے، اُس سے تین ماؤں کی زندگی بچائی جاسکتی ہے.

اپنے خرچوں پر غور کریں اور کوئی نمبر معین کرلیں کہ اتنا تو دنیا کو دے کر ہی جانا ہے۔ چیریٹی کو دے دیں، کسی کی خود مدد کردیں، جیسے چاہے کریں۔ ہم میں سے ہر شخص کم از کم 600 لوگوں کو بینائی لوٹانے اور 5 ہزار بچوں کی جان بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر آپ امریکہ یا یورپ میں ہیں تو یہ قابلیت صرف 25 فیصد تنخواہ پر 2 لاکھ لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔

آئندہ کولڈرنک یا مہنگی چائے پیتے ہوئے ضرور سوچیے گا کہ تالاب کا وہ بچہ آپ کے چائے کے کپ میں ڈوب کر مرگیا۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ