ہیڈلائنز


مشرقِ وسطیٰ میں۔۔۔ داعش کی کہانی اختتام پذیر (خصوصی تحریر)

Written by | روزنامہ بشارت

تحریر: عابد حسین (ریسرچ اسکالر و تجزیہ کار)


دہشتگرد تنظیم داعش کا عراق میں آخری گڑھ موصل کے آپریشن کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا اور اس اعلان کے ساتھ عراق میں داعش کے ٹھکانوں کی کہانی کا اختتام ہوچلا ہے۔ ظاہر ہے کہ ابھی آبادی میں چھپے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف عراق فورسز کی تلاش جاری رہے گی تاکہ امن و امان کی صورت حال بالکل بہتر بنائی جا سکے۔ داعش کی کہانی صرف عراق میں ہی اختتام پذیر نہیں ہو رہی، بلکہ شام میں بھی اس دہشتگرد تنظیم کے آخری ٹھکانے ”رقہ“ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں اس کی وحشی اور بربری کہانی اختتام کی جانب گامزن ہے۔ دل چسب بات یہ ہے کہ جوں جوں اس دہشتگر دتنظیم کا اثرورسوخ عراق اور شام میں ختم ہوتا جا رہا ہے تو خطے میں بعض قوتوں، خاص طور پر اسرائیل اور امریکا کی پریشانی میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ ”شام داعش کے بغیر “ وہ عنوان ہے، جو ان قوتوں کے لیے کافی پریشانی کا باعث ہے۔ مشرق وسطی پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے تل ابیب کے زرائع کہتے ہیں کہ اسرائیل کے لیے اس وقت سب سے بڑی پریشانی ”شام داعش کے بغیر“سے ہے، جس کا وہ برملا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ معروف اسرائیلی اخبار ہاآرٹس نے گذشتہ ہفتے جمعرات کے شمارے میں یہ خبر دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے روسی صدر پیوٹن سے ٹیلی فونک گفتگو میں اس مسئلے پر بات چیت کی کہ شام میں اسرائیلی سرحد کے ساتھ جولان کے علاقے میں ”پرامن علاقوں “کے قیام کے لیے اسرائیل راضی بھی ہے اور اس میں پیش رفت ہونی چاہیے۔ اسرائیل اپنی سرحد کے ساتھ شام کے اندر ایسے علاقوں کا قیام چاہتا ہے کہ اس میں اس کی اپنی بھی شمولیت رہے تاکہ اس کا سرحدی علاقہ ان قوتوں کے ہاتھوں میں نہ چلا جائے، جو اسرائیل مخالف ہیں اور جسے مزاحمتی بلاک کہا جاتا ہے اور یہ بلاک شام کی حکومت، لبنان کی جماعت حزب اللہ، فلسطینی جماعت حماس اور ایران و عراق سے تشکیل پاتا ہے۔ گرچہ، اس بلاک کے عالمی سطح پر چین اور روس بھی حامی سمجھے جاتے ہیں۔

اسرائیل کی کوشش یہ ہے کہ اس کی سرحد کے ساتھ شام کے اندر ایسے دو علاقے بنائیں جائیں، جن کا کنٹرول مشترکہ ہونے کے ساتھ ساتھ روس امریکا اردن بھی اس میں شامل ہوں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس بات سے سخت پریشان تھا کہ شام کی سرکاری فورسز کہیں اس کی سرحد کے ساتھ علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کرلیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ چار برسوں سے سرحدی علاقہ داعش و دیگرد دہشت گردوں کی سپلائی لائن بنا رہا ہے، جنہیں مسلسل اسرائیل سے مدد ملتی رہی ہے۔ اسرائیل کے لیے سب سے بڑی پریشانی اس وقت شروع ہوئی، جب عراق اور شام نے اپنا زمینی رابطہ بحال کردیا تھا۔ تجزیہ نگار اس زمینی رابطے کو کام یابی کی بڑی وجہ اور گیم چینجر کے نام سے یاد کررہے ہیں، کیوں کہ اس زمینی رابطے کے بعد ایران، عراق، شام لبنان اور دیگر ممالک تک کا زمینی رابطہ بحال ہوچکا ہے کہ جس میں اردن سعودی عرب کے علاوہ شام کے ساحلی شہر لازقیہ کی بندرگاہ کے توسط سے بحیرہ روم تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ تہران سے دمشق و بیروت اور بحیرہ روم تک رسائی دلانے والا یہ زمینی پل ہر اعتبار سے انتہائی اہم بن گیا۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اس زمینی پل کے بعد اس خطے میں اس کی معلوماتی رسائی محدود ہوکر رہ جائے گی اور وہ درست انداز سے اس خطے کی مانیٹرنگ نہیں کرپائے گا، جب کہ اس کے سامنے اقتصادی اور تجارتی برتری کے چیلنجز الگ ایک مسئلے کے طور پر کھڑے ہوں گے۔ سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے نارمل سے دوستی کی جانب بڑھتے تعلقات نے اسرائیل کو دو اور ایسے مواقع فراہم کیے ہیں، جسے وہ خطے میں بدلتی اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ برطانوی اخبارات کے مطابق اسرائیل نے کچھ عرصہ قبل سعودی عرب سے انچی اڑان والے ان طیاروں کے لیے فضائی حدود کے استعمال کی بات کی تھی، جو اسرائیلی بن گورین ائرپورٹ سے اڑتے ہیں۔ گرچہ، اسرائیل اخبار معاریف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اپنی عدم تیاری کا کہہ کر اس موضوع کو مؤخر کردیا، لیکن اس کے باوجود بہت سے طیارے سعودی فضائی حدود کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل میں داخل ہوتے ہیں اور اسرائیل سے سعودی فضائی حدود کے توسط سے آگے بڑھتے ہیں۔ ان ملکوں میں سے ایک ہندوستان ہے کہ جس کے طیارے اسرائیلی بن گورین ائرپورٹ آنے جانے کے لیے سعودی فضائی حدود استعمال کرتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل عرب دوست ممالک کے تعاون سے ایک ایسی ٹرین پٹری بچھانے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے، جو اسرائیلی شہر حیفا سے لے کر اردن کے ملک حسین پل تک رسائی حاصل کرے۔ یوں، اردن اور سعودی عرب سمیت امارات بھی اس ٹرین کی پٹری کے توسط سے اسرائیل کے ساتھ جڑ جائے گا اور اگر شام میں اسرائیل کے لیے حالات سازگار ہوجاتے ہیں تو وہ شام سے ترکی اور عراق تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور یہی نہیں، ترکی سے وہ یونان اور یورپ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح اسرائیل یہ بھی چاہتا ہے کہ العفولہ شہر سے لے کر جنین کی الجملہ گزرگاہ تک ایک شاہراہ بنائی جائے، جو ٹرین کی پٹری کے ساتھ متصل ہو۔ یوں، فلسطینی اتھارٹی کو بھی اس میں حصہ مل سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل حیفا پورٹ سے تجارتی سامان ٹرکوں اور کنٹینرز کی مدد سے آگے بھیجتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں اسرائیل عربوں، خاص طور پر اردن کے ساتھ گذشتہ تین برسوں سے بات چیت کررہا ہے، لیکن اب جاکر جب سے سعودی عرب میں شاہ عبداللہ کے بعد بادشاہ سلمان کی بادشاہت شروع ہوئی ہے تو اس کے واضح امکانات روشن ہوئے ہیں۔ اسرائیلی اس منصوبے کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ شام کی بدلتی صورت حال ہے، جس میں شام کی سرکاری افواج اپنے اتحادیوں کے مدد سے دن بہ دن ان تمام علاقوں میں اپنا کنٹرول بحال کرنے میں کام یا ب ہوتی جارہی ہے کہ جس میں پہلے مختلف شدت پسند گروہ کا کنٹرول تھا۔ خاص طور پر اس سلسلے میں عراق و شام کا سرحدی علاقہ اور اردن واسرائیل کے ساتھ ملحق علاقہ شامل ہے۔

تہران سے غزہ تک زمینی پل سے تعبیر کیا جانے والا عراقی شامی سرحدی علاقہ اس وقت اسرائیلی منصوبوں کے آگے سب سے بڑی ر±کاوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ خطے میں اسرائیل مخالف قوت یا مزاحمتی بلاک کی مضبوطی کی بھی ضمانت بن چکا ہے۔ ایسے میں داعش دہشت گردوں کا خاتمہ اس بلاک کو مکمل طور پر اگلے اقدامات کی جانب غور فکر کرنے کے لیے آزاد کردے گا۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اسرائیل اس بات کے پیش نظر گھبرارہا ہے کہ کہیں ”داعش کے بعد کے شام “کو امریکا مکمل طور پر روس، ایران اور بشار الاسد کے حوالے نہ کردے؟ گرچہ، اس وقت زمینی حقائق ایسے ہیں کہ امریکی اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں کرپارہے، باجود اس کے کہ اس کی دوہزار کے قریب افواج اور بیس ہزار سے زائد حمایت یافتہ مسلح جنگجو شام میں سرگرم ہے۔ کہا جارہا ہے کہ شام کی سرزمین کو ٹرانزٹ کے طور پر قطر بھی اپنی گیس کی ترسیل کے لیے استعمال کرناچاہتا ہے۔ گرچہ، تجزیہ نگار شام کے بحران کے اسباب میں ان تمام منصوبوں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن ہم طوالت کے پیش نظر ان تمام تھیوریز کو نظر انداز کرتے ہوئے عرب میڈیا میں نشر ہونے والی اس خبر پر اکتفا کرتے ہیں کہ حالیہ قطری سعودی اماراتی بحران کی وجوہ میں سے ایک وجہ قطر کے اسی ٹرانزٹ منصوبے کو قراردیتے ہیں کہ قطر نے اپنی گیس کی یورپ تک ترسیل کی خاطر شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ خفیہ ڈیل کی ہے اور اس ڈیل کے بعد قطر نے شام میں ان مسلح گروہ کی حمایت چھوڑ دی ہے، جو اس پہلے قطری حمایت حاصل کرتے تھے۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ