ہیڈلائنز


ہمارے ہاں حوا کی بیٹیاں آج بھی ظلم کی شکارہیں

Written by | روزنامہ بشارت

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں خواتین کاعالمی دن آٹھ مارچ کو منایاجاتاہے، اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کی اہمیت کو تسلیم کرنا اوران کے حقوق سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے‘ پاکستان میں 2016 اس معاملے پر قانون سازی کے حوالے سے ایک بہتر سال رہا۔

خواتین نے دنیا کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کرکے ثابت کیا ہے کہ ان کی شمولیت کے بغیرکوئی بھی معاشرہ ترقی کی راہ پرگامزن نہیں ہوسکتا۔ خواتین کی معاشرے میں اسی اہمیت کواجاگرکرنے کےلیے دنیا بھرمیں ان کاعالمی دن منایا جاتاہے۔

خواتین کے حقوق کا عالمی دن منانے کا مقصد ان بہادرخواتین کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے اپنے حقوق کے حصول کی جنگ لڑی، اس دن پاکستان سمیت دنیا بھرمیں پھیلی تنظیمیں خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی ترقی کیلئے کوششوں کو اجاگر کرنے کے لئے واکس اورتقاریب کا اہتمام کریں گی۔

خواتین کے عالمی دن پرملک بھرمیں تقاریب منعقد ہوتی ہیں لیکن ہمارے ہاں حوا کی بیٹیاں آج بھی ظلم کی شکارہیں، ہرسال پاکستان میں خواتین پرتشدد کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں اورجو رپورٹ نہیں ہوپاتے ان کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

خواتین کا عالمی دن کیوں منایا جاتا ہے؟
آج سے تقریباً سو سال قبل نیو یارک میں کپڑا بنانے والی ایک فیکٹری میں مسلسل دس گھنٹے کام کرنے والی خواتین نے اپنے کام کے اوقات کار میں کمی اور اجرت میں اضافے کے لیے آواز اٹھائی تو ان پر پولیس نے نہ صرف وحشیانہ تشدد کیا بلکہ ان خواتین کو گھوڑوں سے باندھ کرسڑکوں پرگھسیٹا گیا تاہم اس بد ترین تشدد کے بعد بھی خواتین نے جبری مشقت کے خلاف تحریک جاری رکھی۔

خواتین کی مسلسل جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے نتیجے میں 1910 میں کوپن ہیگن میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں 17 سے زائد ممالک کی سو کے قریب خواتین نے شرکت کی۔

اس کانفرنس میں عورتوں پر ہونے والے ظلم واستحصال کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے 1656 میں 8 مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے طورپرمنانے کا فیصلہ کیا۔

پہلی عالمی کانفرنس کے 107 سال بعد
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھرمیں، ترقی یافتہ اورغیر ترقی یافتہ ممالک کی درجہ بندی سے قطع نظر ہر تین میں سے ایک عورت کسی نہ کسی قسم کے ذہنی، جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہے اوریہی خواتین کے بے شمار طبی و نفسیاتی مسائل کی وجہ ہے۔

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں خواتین کے خلاف جرائم بشمول تشدد و زیادتی کے واقعات رپورٹ ہونے کی تعداد میں تشویش ناک اضافہ ہوچکا ہے۔

پاکستانی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق سنہ 2004 سے 2016 تک 7 ہزار 7 سو 34 خواتین پر جنسی تشدد کے واقعات پیش آئے۔ اس عرصے میں غیرت کے نام پر15 ہزار 222 قتل (جو منظر عام پر آسکے، بشمول مرد و خواتین) کیے گئے۔

ان 12 سالوں میں 5 ہزار 508 خواتین کو اغوا کیا گیا، 15 سو 35 خواتین کو آگ سے جلایا گیا جبکہ ملک کے طول وعرض میں 1843 گھریلو تشدد کے واقعات کی رپورٹ یا شکایت درج کی گئی۔

وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صرف جنوری 2012 سے ستمبر 2015 کے عرصے کے دوران 344 اجتماعی یا انفرادی واقعات پیش آئے۔ 860 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں، 72 خواتین کو جلایا گیا، 90 تیزاب گردی کے واقعات پیش آئے، گھروں سے باہرمختلف اداروں اوردفاتر میں جنسی طورپرہراساں کرنے کے 268 واقعات کی رپورٹ کی گئی اور 535 خواتین پرگھریلو تشدد کے واقعات پیش آئے۔

یاد رہے کہ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو میڈیا کی بدولت منظر عام پر آسکے یا ان کی شکایت درج کروائی گئی۔ زیادتی کے واقعات‘ ہراسمنٹ اور تشدد کے ہزاروں کیسز ایسے ہیں جو رپورٹ نہیں کیے گئے۔ جنہیں مجرمان کی جانب سے دباؤ ڈالنے کے بعد یا متاثرہ کے خاندان کی عزت کی خاطردبادیا گیا یا دنیا کے خوف سے چھپایا گیا۔

اقوام متحدہ اس نامعلوم شرح کو ’ڈارک فگرز‘ کا نام دیتی ہے جو نہ صرف اعداد و شمار کی جانب سے لاعلمی کا اظہار ہے بلکہ معاشروں میں چھپی کالک کی طرف بھی اشارہ ہے۔

سنہ 2014 میں 2013 کی نسبت زیادتی کے واقعات میں 49 فیصد اضافہ دیکھا گیا، اور عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹس میں یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا کہ 2014 میں ہرروزچار پاکستانی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

کم عمری میں شادی
بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کی جانب سے جاری کردہ 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہونے والی 21 فیصد شادیوں میں دولہا یا دولہن کی عمر 18 سال سے کم ہوتی ہے۔ مگر پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیموں کا اصرار ہے کہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 60 سے 70 فیصد کے درمیان ہے۔

پاکستان میں بچپن میں کی گئی شادی سے متعلق حتمی اعداد و شمار اکٹھا کرنا مشکل ہے، کیونکہ پاکستان میں اکثر پیدائش کے ریکارڈ میں تبدیلی کردی جاتی ہے۔ یوں یہ جاننا مشکل ہے کہ شادی کے وقت دولہا یا دولہن کی اصل عمر کیا ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کی جانے والی قانون سازی
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کی جانے والی قانون سازی ہمیشہ سے ایک مشکل مرحلہ رہی ہے اور اس کی سب سے بنیادی وجہ مذہبی حلقوں کی مخالفت بتایا جاتا ہے‘ سن انیس سو تہتر کے آئین میں غیرت کے نام پر قتل اور خواتین پر جنسی تشدد کو روکنے کی پہلی کوشش 43 سال بعد کامیاب ہوسکی۔

غیرت کے نام پر قتل فساد فی الارض تصور ہوگا

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابرنے 2014 میں غیرت کے نام پر قتل اور جنسی زیادتی کی روک تھام کے لیے ایک بل پیش کیا تھا جس پر مسلم لیگ ن کی حکومت نے اتفاق کیا تاہم مذہبی حلقوں کی جانب سے کیے جانےوالے اعتراضات کے سبب تین سال تک یہ معاملہ التوا کا شکاررہا یہاں تک کہ اکتوبر 2016 میں اسے اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا۔

واضح رہے کہ بل پیش کیے جانے سے منظور کیے جانے تک کے درمیانی عرصے سے کم و بیش 2300 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا‘ اعدادوشمار کے مطابق بل پیش ہونے کے بعد اس نوعیت کے واقعات ریکارڈ ہونے میں حیرت انگیز طورپر اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سندھ اسمبلی میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کا بل
سندھ اسمبلی نے اپریل 2014 میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے ایک بل منظور کیا تھاجس کے تحت کم عمری میں شادی قانونی طورپرجرم قرارپائی۔

کم عمری میں شادی کی روک تھام کا بل 2013 میں شرمیلا فاروقی اورروبینہ سعادت قائم خانی نے پیش کیا تھا۔ اس بل کے تحت کم عمری کی شادی کے جرم میں شریک ملزمان کو تین سال تک کی قید اور 45 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ سنائی جاسکتی ہیں۔

یاد رہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت ملک کی پہلی اسمبلی تھی جس نے خواتین کے تحفظ کے لیے اس نوعیت کا بل پاس کیا۔

بلوچستان میں ہراسمنٹ‘ گھریلو تشدد کے خلاف بل
بلوچستان اسمبلی نے گزشتہ سال جنوری 2016 میں ایک بل متفقہ طور پر پاس کیا جس کے تحت خواتین کو کام کے مقام پر ہراسمنٹ کا نشانہ بنانے پر کارروائی کی جاسکے گی۔

یہ بل صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارت وال نے 2015 میں پیش کیا تھا‘ اس سے قبل سنہ 2014 میں بلوچستان اسمبلی گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے بھی ایک بل پاس کرچکی ہے اور خواتین کے ساتھ زیادتیی اور تیزاب گردی کے حوالے سے ایک بل تاحال زیرِ غور ہے۔

پنجاب اسمبلی میں خواتین کے تحفظ کا بل منظور
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی میں فروری 2016 خواتین کو گھریلو تشدد، معاشی استحصال، جذباتی اور نفسیاتی تشدد، بدکلامی اورسائبرکرائمز سے تحفظ دینے کا بل منظور کیا۔

پنجاب میں منظور ہونے والے بل کے تحت خواتین کو جسمانی ‘ جنسی ذہنی یا معاشی استحصال کا نشانہ بنانے والے شخص کے لیے جرم کی نوعیت کے حساب سے سزائیں متعین کی گئی ہیں یہاں تک کہ پروٹیکشن آفیسر کو اس کے کام سے روکنے کی صورت میں بھی چھ ماہ کی قید ہوسکتی ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی تحقیق بتاتی ہے کہ عام تاثر کے برعکس دیہی اور دور دراز علاقوں میں اس جرم کی شرح بڑے شہری علاقوں کی نسبت بہت کم ہے۔

اسی طرح آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ عورت کے خلاف اس جرم میں بھی سب سے آگے ہے۔

عورت فاؤنڈیشن کے مطابق نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں صوبوں کے لحاظ سے پنجاب پہلے نمبر پر ہے جہاں پورے ملک کے دیگرصوبوں کے برابر اس جرم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔

پنجاب کے صنعتی شہرفیصل آباد میں پورے ملک میں سب سے زیادہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کیے جاتے ہیں۔

خیبرپختونخواہ ابھی تک سوچ رہا ہے
خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت نے گزشتہ سال خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک بل ڈرافٹ کراسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا تھا جس نے پنجاب کے ویمن پروٹیکشن بل کی طرح اسے بھی مسترد کردیا۔ تاہم خیبر پختونخواہ حکومت تاحال اس پرغور کررہی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے مشیر برائے انفارمیشن مشتاق غنی نے اس حوالےسے کہا تھا کہ حکومت اس بل کو ری ڈرافٹ کرکے اسے اسلامی قوانین کے مطابق بنارہی ہے، تاحال یہ بل دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش نہیں ہوسکاہے۔

واضح رہے کہ دوہزارتیرہ میں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت نے جتنی بھی قانون سازی کی ان میں سے یہ واحد بل ہے جسے اسلامینظریاتی کونسل میں بھیجا تھا۔ اس سے قبل تحریک انصاف نے پنجاب میں پیش کیے جانے والے ویمن پروٹیکشن بل کی بھی مخالفت کی تھی۔

گھریلو تشدد صلاحیتوں کو متاثرکرتا ہے
اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کی ایوارڈ یافتہ پاکستانی ڈاکٹر سارہ خرم کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد کے خواتین کی جسمانی اور ذہنی صحت پرانتہائی مضراثرات مرتب کرتا ہے۔ اس سے ان کی سماعت متاثر ہوسکتی ہے ‘ اسقاطِ حمل‘ جوڑوں اور ہڈیوں کے امراض لاحق ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر سارہ کے مطابق اس سب سے بڑھ کر انہیں شدید ڈپریشن کا عارضہ لاحق ہوجاتا ہے جس کے سبب کسی بھی خاتون کی اپنے بچوں کی نگہداشت کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جو کہ آئندہ نسلوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

قانون سازی توہورہی ہے اورانسانی حقوق کی تنظیمیں بھی آواز اٹھارہی ہیں لیکن اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اورخواتین
کے حقوق سے جڑے تمام افراد یہ طے کریں کہ خواتین کے حقوق سلب نہ کیے جائیں ‘ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے۔ خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا جائے‘ مردوں کو یہ بات باور کرائی جائے کہ ہمارے معاشرے میں موجود خواتین ہمارے برابرکی انسان ہیں اور اتنے ہی حقوق رکھتی ہیں جتنے ہم رکھتے ہیں۔

یاد رکھیے کہ ایک آزاد‘ خود مختار اور مستحکم ماں ہی ایک آزاد‘ خود مختار اورمستحکم معاشرے کی تعمیر کرسکتی ہے اور آج عورتوں سے ان کے حقوق چھیننے کا مطلب ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں سے جینے کا حق چھین رہے ہیں


Read Basharat Online

 

 

PentaBuilders

روزنامہ بشارت ٹویٹر


Follow Daily_Basharat on Twitter

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ