پاکستان
منگل, 17 جنوری 2017 11:50

پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت

 چیئرمین نیب قمرالزماں چودھری نے کہا ہے کہ لوٹا ہوا مال واپس کرنے کا بہترین طریقہ پلی بارگین ہے، جس کا استعمال ہمیشہ عدلیہ کی منظوری سے ہوا ہے اور چیئرمین نیب کے تقرر کا اختیار مقننہ کے پاس ہے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے سکھر ریجن آفس کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ دورے کے موقع پر پولیس کی جانب سے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر چودھری قمر زمان کاکہنا تھا کہ پلی بارگین کا نام تبدیل کرکے وی آر رکھا گیا ہے، اس عمل سے قومی خزانے کو فائدہ ہوگا۔ کرپشن کیسز میں ملوث ملزمان اگر جیل چلے جائیں اور نقصان پورا نہ ہو تو کیا فائدہ؟ ڈبل شاہ کیس میں نیب نے 4 ارب کا نقصان پورا کرکے متاثرین میں تقسیم کیا ہے۔ اسی طرح دنیا بھر کے قوانین میں پلی بارگین کے قوانین موجود ہیں اور اسی طرح عوام کے نقصان کو رضا کارانہ واپسی سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا نیب نے قانون کے مطابق کام کرنا ہے جو قانون کہتا ہے نیب وہ کرے گا۔ نیب سندھ میں صوبائی حکومت کے مکمل تعاون کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب سکھر آفس نے 2 سال میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے لیکن ابھی کرپشن کے خلاف نیب کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کراچی: خدیجة الکبری فاؤنڈیشن پاکستان کی جانب سے کراچی کے علاقے گلشن وقار جوگی موڑ کے مکینوں کے درمیان 150سےزائدگرم لباس اور جیکٹس تقسیم کی گئیں۔
علاقہ مکینوں میں گرم لباس کی تقسیم کی تقریب میں مولانا باقر زیدی، مولانا نشان حیدر ساجدی سمیت خدیجة الکبری فاؤنڈیشن کے ڈائرکٹر علی نیّر اور سماجی کارکن صابر اعجاز سمیت واحد خان اور دیگر نے شرکت کی اور علاقہ مکین مستحق افراد بالخصوص بچوں اور بچیوں سمیت بزرگوں کو گرم لباس فراہم کئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خدیجة الکبری فاؤنڈیشن پاکستان کے ڈائرکٹر علی نیّر کا کہنا تھا کہ خدمت خلق خدا کی خدمت ہماری عبادت ہے اور ہم یہ عبادت پاکستان کے غریب و نادار اور مستحق عوام کے لئے جاری رکھیں گے ، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی (ص) کی زوجہ مطہر جناب سیدہ خدیجة (س) نے جس طرح اپنی تمام دولت اسلام اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود میں صرف کر کےتا قیامت مثال قائم کی ہےبالکل اسی طرح خدیجة الکبری فاؤنڈیشن پاکستان بھی جناب خدیجة (س) کی سیرت پر عمل پیرا ہے اور خلق خدا کی خدمت کو اپنا اولین فریضہ اور عبادت سمجھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے مرحلے میں یہاں 150 گرم لباس تقسیم کئے گئے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں اورنگی ٹاؤن اور ملحقہ آبادیوں کے مستحقین میں 200 مزید گرم لباس تقسیم کئےجائیں گے ، انہوں نے بتایا کہ دوسری جانب اندرون سندھ میں شدید سردی کے موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے 100 سے زائد ہیٹر بھی لاڑکانہ کی تحصیلوں میں تقسیم کئے گئے ہیں جبکہ مزید ہیٹر بھی مختلف علاقوں میں غریب و نادار اور مستحق عوام میں تقسیم کا عمل جاری ہے۔

منگل, 17 جنوری 2017 11:13

پاکستانی چائے والی

 پاکستان میں تین سال گزارنے والی ایک امریکی خاتون صحافی نے پاکستان میں چائے کی دکان یا کھوکھا کھولنے کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق امریکی خاتون صحافی سنیتھا رچی تین سال تک پاکستان میں مقیم رہی ہیں اور انکے بقول پاکستان کی خوبصورتی اور لوگوں کی مہمان نوازی کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتاکیونکہ کوئی شخص ان باتوں کا اندازہ پاکستان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ہی لگا سکتا ہے۔ پاکستانی کھانوں میں مجھے بکرے کا مغز بہت پسند آیا لیکن پاکستان میں سب سے زیادہ مجھے دودھ پتی پسند آئی جو کہ بھینس کے دودھ اورشہد کے ساتھ پیش کی گئی ہو اور میں چاہوں گی کہ پاکستان میں اپنی چائے کی دکان کھول لوں۔

سنیتھا نے بتایا کہ وہ پہلی دفعہ 2010 کے سیلاب کے دوران پاکستان آئیں اور یہاں تین سال تک قیام کیا جس کے بعد بھی وہ پاکستان آتی جاتی رہتی ہیں۔ پاکستان آنے سے پہلے مجھے اس ملک کے بارے میں صرف منفی باتیں ہی سننے کو ملیں لیکن بطور صحافی میں نے خود کو غیر جانبدار رکھا اور خود پاکستان کو قریب سے دیکھنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ دلفریب نظارے رکھنے والا ملک ہے جہاں آپ کو سندھ اور بلوچستان میں صحرا ملیں گے تو پنجاب میں میدان اور نمک کی کانیں بھی نظر آئیں گی جبکہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں آپ کو بڑے بڑے پہاڑ دیکھنے کو ملتے ہیں۔پاکستانی شہروں اور لوگوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنیتھا رچی کا کہنا تھا کہ پاکستانی بہت ہی پیار کرنے والے، بلا کے مہمان نواز اور بہت ہی جذباتی لوگ ہیں۔ میں اتنے زیادہ شہروں کو دیکھ چکی ہوں کہ اب گنتی ہی بھول گئی ہوں لیکن مجھے گوادر اپنی معاشی ترقی ، کراچی روشنیوں، لاہور تعمیرات، اسلام آباد سبزے، چترال اور وادی ہنزہ قدرتی حسن کے باعث بے حد پسند آئے 

 اداکارہ میرا عرب امارات کی فلاحی تنظیم کی سفیر خیرسگالی بن گئیں۔انہوں نے گزشتہ روز چیئرمین سہیل محمد الزرونی سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی۔ ادکارہ میرا نے کہا کہ فلاحی تنظیم کیلئے سماجی خدمات سرانجام دے کر بہت خوشی ہوگی، پہلے بھی ہرممکن طورپر فلاحی کاموں کوترجیح دیتی ہوں ، اب اس کام پر مزید توجہ دوں گی

لاہور:  تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کیخلاف نااہلی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی۔ نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کے ارکان پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعلی کیخلاف چارج شیٹ پر غورکیا گیا، تحریک انصاف کی پارلیمانی قیادت نے شہباز شریف کے خلاف الزامات پربریفنگ دی۔ ریفرنس میں شوگرملز کی منتقلی کے مقدمات سمیت دیگر معاملات کوبنیاد بنایا جائیگا۔ جمعرات کے روزشہباز شریف کیخلاف چارج شیٹ عائد کی جائیگی اور اگلے دن جمعہ کے روزپنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید پارٹی اراکین اسمبلی کے ہمراہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس ریفرنس دائر کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی قانونی ٹیم نے ریفرنس تیارکرلیا ہے اورارکان پنجاب اسمبلی نے اس پر دستخط بھی کردئیے ہیں۔

لاہور:  سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے حوالے سے گزشتہ روز انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج چوہدری محمد اعظم نے کہا کہ اس انتہائی اہم کیس کی سماعت اب روزانہ کی بنیادپرہوگی۔ عوامی تحریک کے وکلا نے استغاثہ کے حوالے سے اپنی بحث اور دلائل کوآگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ 17جون 2014 کے دن کارکن تنزیلہ امجد کا پہلا قتل سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر  طاہرالقادری کی رہائش گاہ کے دروازے پر ہوا پولیس والے زبردستی گھرکے اندر داخل ہوناچاہتے تھے کہ خواتین نے ہاتھوں کی چین بنارکھی تھی، ڈی آئی جی رانا عبدالجبار نے کہاکہ میں3تک گنتی گنوں گاخواتین نہ ہٹیںتوفائرنگ کردی جائے گی اورپھر ایسا ہی ہوااور گولیوں کی بوچھار تنزیلہ امجدکے چہرے کے آر پار ہو گئی اور وہ موقع پر شہید ہوگئیں۔ ۔ عوامی تحریک کے وکیل رائے بشیرایڈووکیٹ نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اگر بیریئر ہٹانے کے لیے آئی تھی تو سربراہ عوامی تحریک کے دروازے پر کون سے بیریئر لگے تھے،  بیریئر ہٹانے کے حوالے سے پولیس کو کسی مزاحمت کاسامنا نہیں تھا پولیس سیاسی مقاصدکے تحت قتل وغارت گری کے لیے آئی تھی۔ عوامی تحریک کی طرف سے نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ، لہراسپ خان ایڈووکیٹ، اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ، یاسرایڈووکیٹ، مستغیث جواد حامد اورعوامی تحریک کے سیکریٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی بھی عدالت میں موجود تھے۔ عوامی تحریک کی طرف سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کی پوسٹ مارٹم رپورٹس اور زخمیوں کے ایم ایل سی جمع کرائے گئے۔رائے بشیر ایڈووکیٹ نے کہاکہ پولیس ڈاکٹرطاہرالقادری کی رہائش گاہ اورمنہاج القران سیکریٹریٹ کے اندرداخل ہونے پر بضد کیوں تھی جبکہ بیریئران دونوں عمارتوں سے دور تھے۔

 

کراچی: ضلعی انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور علاقہ پولیس کی مبینہ سرپرستی میں شادی کی تقریبات میں رات12 بجے تک کی پابندی پر عملدر آمد کی بدستور خلاف ورزی جاری ہے۔ شادی کی تقریبات رات ایک بجے سے زائد وقت تک جاری رہنے کی وجہ سے ان علاقوں میں نہ صرف بدترین ٹریفک جام رہنے لگا بلکہ لوٹ مار کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور علاقہ پولیس کی مبینہ سرپرستی میں شادی کی تقریبات میں رات12 بجے تک کی پابندی پر بدستور خلاف ورزی جاری ہے۔ شہر کے مختلف اضلاع جس میں ضلع وسطی ، ضلع شرقی ، ضلع غربی اور ضلع کورنگی میں واقع شادی ہالز میں شادی کی تقریبات رات 12 بجے کے بجائے ایک بجے سے زائد دیر تک جاری رہنے سے ان علاقوں میں رات گئے تک بدترین ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے۔ ضلع وسطی کے مختلف علاقوں نارتھ ناظم آباد ، سخی حسن ، گلبرگ ، انچولی ، شارع پاکستان اور ناظم آباد میں قائم شادی ہالز میں متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کی عدم دلچسپی اور علاقہ پولیس کی مبینہ سرپرستی میں شادی بیاہ کی تقریبات رات ایک بجے سے بھی زائد وقت تک جاری رہتی ہیں اور ان علاقوں میں جہاں پر شادی ہال ہیں وہاں پر شہریوں کو بدترین ٹریفک جام کی صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ضلع وسطی کے علاقے نارتھ ناظم آباد فائیو اسٹا چورنگی سے سخی حسن جانے اور آنے والی شارع پر شادی کی تقریبات دیر تک جاری رہنے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہتی ہے اسی طرح سے راشد منہاس روڈ یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس سے گلشن اقبال نیپا چورنگی جانے والی شارع پر گاڑیوں کی بے ہنگم پارکنگ اور رات دیر تک شادی کی تقریبات جاری رہنے کی وجہ سے ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے جبکہ کورنگی کراسنگ ، شاہ فیصل کالونی ، بہادر آباد ، عزیز بھٹی ، اورنگی ٹاؤن ، صفورہ ، سچل اور گلستان جوہر سمیت دیگر علاقوں میں ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی عدم دلچسپی کے باعث شادی کی تقریبات میں رات بارہ بجے تک کی پابندی پر عملدر آمد کو یقینی نہیں بنایا جا سکا جبکہ علاقہ پولیس کی مبینہ رشوت وصولی کے بعد ہال انتظامیہ کی جانب سے منتظمین پر تقریب جلدی ختم کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاتا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ رات بارہ بجتے ہی علاقہ پولیس شادی ہالوں پر پہنچ جاتی ہے تاہم ہال انتظامیہ اور تقریب کے منتظیمن کے درمیان معاملات طے ہونے کے بعد پولیس وہاں سے چلی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقہ پولیس کی جانب سے رات دیر تک تقریبات جاری رکھنے کے لیے مبینہ طور پر 1500 سے 2000 ہزار روپے تک فی شادی ہال وصول کیے جاتے ہیں جبکہ ڈیوٹی پر تعینات اہلکار کھانا کھاتے اور تھیلیوں میں بھی لیجاتے ہیں ،رات 12بجنے اور پولیس کے آنے پر ہال انتظامیہ کی جانب سے باہر کی لائٹیں تو بند کر دی جاتی ہیں تاہم رات گئے تک تقریبات جاری رہتی ہیں ، رات دیر سے شادی ہالز سے نکلنے والوں کو اسٹریٹ کرمنلز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس وجہ سے ان علاقوں میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں بھی عام ہوگئی ہیں۔

کراچی: لاڑکانہ کیڈٹ کالج میں تشدد سے معذور ہونے والے طالب علم احمد کےعلاج کے لیے سندھ حکومت نے فنڈزجاری کر دیے جس کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم امریکی اسپتال کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفرکردی گئی ہیں۔ لاڑکانہ کیڈٹ کالج میں گزشتہ دنوں تشدد کے شکار ہونے والے طالب علم احمد کے علاج کے لیے سندھ حکومت نے امداد کی پہلی قسط جاری کردی ہے، سندھ حکومت کی جانب سے 2 لاکھ 73 ہزار 848 ڈالر کی رقم امریکا کے سنسناٹی اسپتال کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی ہے جو پاکستانی روپوں میں تقریبا پونے تین کروڑ روپے بنتی ہے۔احمد کے علاج کے لیے 5 کروڑ روپے اخراجات میں پونے تین کروڑ ادا ہونے پر احمد کے اہل خانہ بھی خوش ہیں اور انہیں اب امید ہے کہ ان کے لخت جگر کا علاج جلد ہوسکے گا اوران کا بیٹا پہلے کی طرح چل پھر سکے گا ،مگر ساتھ ہی احمد کے والد نے سندھ حکومت سے علاج میں مزید تاخیر نہ کرنےکی اپیل کی ہے کیونکہ دوسری صورت میں ویزے کی مدت ختم ہوسکتی ہے۔واضح رہے کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے 14 سالہ طالب علم محمد احمد کو استاد نے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث طالب علم کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ ذہنی صلاحیت سے بھی محروم ہوگیا ہے۔

کراچی: شہر قائد کے مختلف علاقوں میں منگل کے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں شدید نوعیت کے زلزلے محسوس کئے گئے ہیں، زلزلے گلشن اقبال، گلشن اقبال، گلستان جوہر، صفورا گوٹھ ، گلزار ہجری اور اس سے ملحقہ علاقوں میں محسوس کئے گئے۔ زلزلے کی شدت سے متعلق زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 3.6 اعشاریہ ریکارڈ کی گئی ہے، اس کی گہرائی 12 کلو میٹر تھی اور اس کا مرکز بھی کراچی تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے شدید نوعیت کے تھے۔ لوگوں کے مطابق کراچی میں زلزلے کے جھٹکے 10 بج کر 44 منٹ پر آئے۔ دوسری جانب زلزلے کے باعث کراچی یونی ورسٹی اور این ای ڈی یونی ورسٹی کی کلاسز میں موجود طلباء اور طالبات خوف کے مارے اپنی کلاسز سے نکل آئے۔

 نیشنل پارٹی نے مزدور کی تنخواہ کم از کم 30ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے  کہ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام نے ہمارے نظام کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں، نیشنل پارٹی نے ڈھائی سالہ وزارت اعلیٰ کے دور میں مزددوروں اور مظلوم کی داد رسی کی بھرپور کوشش کی، اگر پنجاب میں بر سر اقتدار آئے تو یہاں کے کسانوں اورمزدووں کے لئے مثالی کام کریں گے ۔نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کوٹ لکھپت میں لیبر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ جس کی صدارت نیشنل پارٹی کے صدر ووفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے کی جبکہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ مہمان خصوصی تھے ۔لیبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میر حاصل بزنجو نے کہا کہ بد قسمتی سے آج مزدور کی حالت ابتر ہے اورلوگ فاقہ کشی کے باعث اپنے اعضاء بیچنے پر  مجبور ہیں ۔ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام نے ہمارے نظام کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ نیشنل پارٹی مزدوروں، کسانوں ، محنت کشوں اور مظلوم و محروم طبقات کی جماعت ہے ۔ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے اپنے ڈھائی سالہ وزارت اعلیٰ کے دور میں مزددوروں اور مظلوم کی داد رسی کی بھرپور کوشش کی ،ہم نے میرٹ کو فروغ دے کر تعلیم ، محنت ، مواصلات ،خوراک اور روزگار کے مواقع فراہم کئے۔ اگر نیشنل پارٹی پنجاب میں بر سر اقتدار آئی تو ہم پنجاب کے کسانوں اورمزدووں کے لئے مثالی کام کریں گے ۔ پنجاب کے صدر ایوب ملک نے کہا کہ حکمرانوں کی مزدور کش پالیسیوں کی وجہ سے آج مزدور زبوں حالی کا شکار ہے ۔ حکمرانوں سے سوال ہے کہ وہ 14ہزار ماہانہ تنخواہ سے گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں ۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ مزدور کی کم از کم تنخواہ 30ہزار روپے ماہانہ مقر کی جائے ، ڈیلی ویجز اورکنٹریکٹ ملازمین کو فوری طو رپر مستقل کیا جائے ، سوشل سکیورٹی کی اور ای او بی آئی کی رجسٹریشن کو کارخانوں کے ٹیکس ریکارڈ کے مطابق ملازمین کی تعداد کا تعین کر کے رجسٹرڈ کیا جائے ، تمام صنعتوں کی لیبر یونین کو فوری طو رپر رجسٹرڈ کیا جائے اور پاکٹ یونین کو ختم کیا جائے ، ہوم بیسڈ ورکرز کے  لئے قانون سازی کی جائے ، حکومت ہر سال سہ فریقی لیبر کانفرنس کا انعقاد کرے ، عرصہ درواز سے کاشتکاری کرنے والے مزارعین کو مالکانہ حقوق دئیے جائیں اوران کے تمام جائزمطالبا ت تسلیم کئے جائیں،پاکستان سٹیل کے ملازمین کی تنخواہیں فوری طور پر اد اکی جائیں،پی آئی اے کی استعداد کار بڑھائی جائے اور اس کی نجکاری سے گریز کیا جائے ،صنعتی ملازمین کی پنشن 5500سے بڑھا کر 10000روپے کی جائے ۔

 وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مردم شماری کی قانونی اور سیاسی حیثیت ہے اس لئے یہ صحیح طریقے سے ہونی چاہئے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ بغیر شناختی کارڈ والے شخص کو بھی مردم شماری میں شامل کیا جائے گا جبکہ شناختی کارڈ کا نہ ہونا بھی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرا، چیف سیکرٹری سندھ رضوان میمن اور آئی جی سندھ بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں زکوٰة و عشر کی صوبائی سطح پر وصولی کے بل، دینی مدارس، اطلاعات تک رسائی کے بل، امن وامان کی صورتحال، ترقیاتی منصوبے، رینجرزاختیارات اور مردم شماری سے متعلق معاملات پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں مردم شماری سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15 مارچ کو شروع ہو جائے گا اور حیدر آباد اور گھوٹکی میں بھی پہلے مرحلے میں مردم شماری ہو گی جبکہ دوسرا مرحلہ 10 روز بعد شروع ہو گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سوال کیا کہ شناختی کارڈ نہ رکھنے والا مردم شماری میں شامل ہو گا؟ جس پر انہیں بتایا گیا کہ بغیر شناختی کارڈ والے شخص کوبھی مردم شماری میں شامل کیا جائے گا جبکہ شناختی کارڈ کا نہ ہونا بھی ریکارڈ کا حصہ بنالیا جائے گا ۔

 سمندری تھانہ صدرکے علاقے میں پولیس کانسٹیبل کی شادی میں شریک 4 افراد زہریلی شراب پینے کے باعث ہلاک ہوگئے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق فیصل آباد کے علاقے سمندری کے تھانہ صدر کی حدود میں واقع گاؤں چک 464 میں پولیس کانسٹیبل کی شادی میں شریک 4 افراد زہریلی شراب پینے کے باعث موت کا شکار ہوگئے۔ ہلاکتوں کی خبر ملتے ہی تھانہ صدر کی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو قبضے میں لے لیا۔ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ چاروں افراد پولیس کانسٹیبل کے دوست اور اس کی شادی میں شرکت کے لئے آئے تھے اور ایک ہی کمرے میں سوئے تھے جب کہ صبح چاروں کی لاشیں برآمد ہوئیں تو انکشاف ہوا کہ ہلاکتیں زہریلی شراب پینے کے باعث ہوئی ہیں۔ پولیس نے لاشیں قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہے

 دوسری شادی کی راہ میں رکاوٹ بننے پر لاہور کے علاقہ ملت پارک میں سنگ دل شوہر نے بیوی اور دو بچوں کی ماں کو قتل کردیا،پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کوگرفتارکرلیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملت پارک کا رہائشی علی مرتضیٰ دوسری شادی کرنا چاہتا تھا جس پراُس کا اپنی بیوی رضیہ سے جھگڑا ہوگیا۔ملزم نے طیش میں آکربیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا،ڈنڈوں اور ہتھوڑے کے وار کرکےرضیہ کو قتل کردیا ۔پولیس نے ملزم علی مرتضیٰ کوگرفتار کرکے لاش پوسٹ مارٹم کےلیے مردہ خانے منتقل کر دی ۔مقتولہ رضیہ دو بچوں کی ماں تھی


Read Basharat Online

مقبول خبریں

روزنامہ بشارت ٹویٹر

There is no friend in list


Follow Daily_Basharat on Twitter