سپریم کورٹ کا طیبہ کو سویٹ ہوم منتقل کرنے کا حکم

بدھ, 11 جنوری 2017 07:31

سپریم کورٹ کا طیبہ کو سویٹ ہوم منتقل کرنے کا حکم

Written by

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی بچی طیبہ کو سویٹ ہوم منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس میں نامزد تمام دعویداروں کے ریکارڈ قلمبند کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں طیبہ تشدد ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیشن جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی بچی اور اس کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ چیف جسٹس کا دوران سماعت کہنا تھا کہ بچی عدالتی ماحول سے گھبرائی ہوئی لگ رہی ہے۔

اس موقع پر طیبہ کے والد اعظم نے بھی عدالت میں اپنا ریکارڈ قلمبند کرایا، طیبہ کے والد کا کہنا تھا کہ اس کے 4 بچےہیں جن میں طیبہ سب سے بڑی ہے، 14 اگست 20166 کو طیبہ کو ملازمت کے لئے پڑوسن ناردہ فیصل آباد لے گئی، نادرہ سے بچے کو کھلانے کیلئے 3 ہزار روپے معاوضہ طے پایا، پڑوسن نادرہ نے مجھے 188 ہزار روپے پیشگی ادا کئے لیکن بچی اسلام آباد لے جانے کا نہیں بتایا، نادرا نے بچی سے 2 بار بات کروائی اور جب بچی ملی تو جس پر زخموں کے نشانات تھے۔

چیف جسٹس نے اعظم سے استفسار کیا کہ جب آپ نے بچی کے جسم پر زخم دیکھے تو ان سے متعلق کس سے پوچھا جس پر اعظم نے بتایا کہ جب جج صاحب نے بچی میرے حوالے کی تو میں نے ان سے پوچھا کہ بچی کو یہ زخم کیسے لگے لیکن  انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔

اعظم کا مزید کہنا تھا کہ جج صاحب نے ہمیں برما ٹاؤن اسلام آباد میں ایک مکان لے کر دیا اور ایک موبائل سم بھی خرید کر دی لیکن بعد ازاں کہا گیا کہ سم نکال دو کیونکہ اس سے جگہ کا پتہ لگایا جا سکتا ہے جس کے بعد 5 روز تک ہمارا کوئی رابطہ نہ ہو سکا، پھر ہمیں ایک فارم دیا گیا اور کہا گیا کہ اس پر انگوٹھا لگاؤ تو ہم نے اپنی بچی کی خاطر جج صاحب کو معاف کیا اور اسے اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔

سپریم کورٹ نے بچی کے تمام دعویداروں کے بیانات قلمبند کرانے کا حکم دیتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ 10 روز میں عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

Read 146 times

اپنی رائے کا اظہار کریں

اس بات کو یقینی بنائیں کے (*) کے ضروری معلومات کے کالم پر کردئے ہیں


Read Basharat Online

روزنامہ بشارت ٹویٹر

There is no friend in list


Follow Daily_Basharat on Twitter