ہیڈلائنز

Reporter HH

Write on بدھ, 29 نومبر 2017

لندن: برٹش میوزیم میں قائد اعظم کے مجسمے کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق برٹش میوزیم لندن میں قائد اعظم محمد علی جناح کے مجسمے کی رونمائی ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی میئر لندن صادق خان تھے اوراس موقع پر پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس بھی موجود تھے۔
میئرلندن صادق خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس مجسمے کا مقصد بانی پاکستان محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ بانی پاکستان کا ’لنکنز ان‘ میں رکھا جانے والا مجسمہ برطانوی مجسمہ ساز فلِپ جیکسن نے بنایا ہے۔
میئرلندن صادق خان نے ٹوئٹر پر مجسمے کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مجسمے کی رونمائی کی تقریب کے سلسلے میں پاکستانی ہائی کمیشن میں مدعو ہونے پر فخر محسوس کررہا ہوں

Write on بدھ, 29 نومبر 2017

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی نااہلی کی وجہ سے شہر کے مرکزی علاقے یونیورسٹی روڈ نیپا چورنگی پر سیوریج کی لائن پھٹ گئی جس کے نتیجے میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا ہے۔ نیپا چورنگی پر گندا پانی سڑک پر جمع ہوگیا ہے اور ملحقہ سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔
ٹریفک جام کی وجہ سے دفاتر اور اسکول و کالج جانے والے شہریوں اور طلبہ کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود سیوریج بورڈ کا عملہ لائن کی مرمت کے لئے نہیں پہنچ سکا ہے۔

Write on بدھ, 29 نومبر 2017

شہزادہ حمد بن جاسم کی قیادت میں قطر کا 13 رکنی وفد خصوصی پرواز کے ذریعے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچا۔ وفد کو لاہور پہنچنے پر سرکاری پروٹوکول دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق قطری وفد ملک کی اہم شخصیت سے ملاقات کرے گا جن میں سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر اعلیٰ عہدے دار شامل ہیں۔
قطری وفد کی آمد کے نتیجے میں ملک میں جاری سیاسی انتشار اور پاناما لیکس سے متعلق جاری مقدمات کے حوالے سے اہم پیش رفت ممکن ہے۔ وفد تین سے چار روز تک پاکستان میں قیام کرے گا تاہم کچھ ارکان کل صبح واپس اپنے ملک روانہ ہوجائیں گے۔ وفد کے کچھ ارکان کو مال روڈ کے ہوٹل اور باقی کو نواز شریف کی رہائش گاہ جاتی امرا میں ٹہرایا جائے گا۔
قطری وفد کو 12 گاڑیوں میں انتہائی سخت سیکیورٹی میں لاہور ائرپورٹ کے حج ٹرمینل سے روانہ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ قطری وفد کے جمعے کو پاکستان آنے کی اطلاع تھی لیکن وہ دو روز پہلے ہی پہنچ گیا۔ اس سے قبل 3 دسمبر 2016 کو بھی شہزادہ جاسم سمیت شاہی خاندان کے 12 افراد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس میں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی طرف سے جو دستاویزات جمع کروائی گئی تھیں ان میں لندن فلیٹس کے بارے میں قطری شہزادے کا خط بھی شامل تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف کے والد میاں شریف نے 1980 میں قطر میں ایک کروڑ بیس لاکھ قطری ریال کی سرمایہ کاری کی تھی۔ شہزادہ جاسم کے ذمے میاں شریف کے 80 لاکھ امریکی ڈالر واجب الادا تھے جو 2005 میں نیلسن اور نیکسول کمپنیوں میں شیئر کی صورت میں ادا کیے گئے۔

Write on جمعہ, 24 نومبر 2017

جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر ایڈمیشن پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری کے اعلامیہ کے مطابق بیچلرز ،ماسٹرز ، ڈاکٹر آف فارمیسی (مارننگ و ایوننگ پروگرام)،ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی(مارننگ پروگرام) اور شعبہ ویژول اسٹڈیز میں بیچلرز آف ڈیزائن(چارسالہ پروگرام) ،بیچلرز آف فائن آرٹس(چارسالہ پروگرام) اور بیچلرز آف آرکیٹیکچرز (پانچ سالہ پروگرام ) میںداخلوں کے لئے فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 28 نومبر 2017 ء تک توسیع کردی گئی ہے۔خواہشمند طلبہ تمام معلومات بمعہ آن لائن داخلہ فارم اور پراسپیکٹس کے حصول کے لئے www.uokadmission.edu.pk پررابطہ کرسکتے ہیں،جہاںتمام معلومات موجودہیں۔

Write on جمعرات, 26 اکتوبر 2017

پشاور: قومی اسمبلی کی نشست این اے 4 کے ضمنی انتخاب کے ابتدائی نتائج میں تحریک انصاف کے امیدوار ارباب عامر کو برتری حاصل ہے۔
پشاورمیں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 4 کے ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے جب کہ الیکشن کمیشن نے 184 پولنگ اسٹیشن کے نتائج کا اعلان کردیا۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار ارباب عامر 34 ہزار 267 ووٹ لے کر پہلے جب کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ناصر خان 18 ہزار 629 ووٹ لے کر دوسرے اور اے این پی کے خوشدل خان 17 ہزار 113 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
حلقے میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے ارباب عامر، اے این پی کے خوشدل خان، مسلم لیگ (ن) کے ناصر خان موسیٰ زئی اور پیپلز پارٹی کے اسد گلزار سمیت کل 14 امید وار میدان میں تھے۔

گزشتہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار گلزار خان نے مسلم لیگ (ن) کے موجودہ امیدوار ناصر خان موسی زئی کو 34 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی۔
عام انتخابات میں ناصر خان موسیٰ زئی 20 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے تھے جب کہ تیسری پوزیشن جماعت اسلامی کے حصے میں آئی تھی۔

Write on بدھ, 25 اکتوبر 2017
کراچی ( روزنامہ بشارت) محکمہ اسکول ایجوکیشن نے سال2012ءمیں بھرتی ہونیوالے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے حوالے سے 28اکتوبر کو سیکرٹری تعلیم کے آفس میں افسران کامحکمہ جاتی اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں ان اساتذہ کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائیگا جبکہ دوسری جانب سال 2012ءکے اساتذہ کو تنخواہیں دلانے کیلئے پیپلز پارٹی کراچی ڈویژ ن کی قیادت بھی متحرک ہو چکی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین ظہیر احمد بلوچ، پیپلز پارٹی کراچی کے سینئر نائب صدر راجہ رزاق بلوچ اورپی پی الیکشن سیل کے انچارج نجمی عالم کے ہمراہ سال 2012ءمیں بھرتی ہونیوالے اساتذہ کے مسئلے پر گفتگو کیلئے منگل کے روز سیکریٹری تعلیم سندھ کے آفس پہنچے تاہم سیکریٹری تعلیم اقبال درانی کی عدم موجودگی کے باعث پی ایس نعیم نے ان سے ملاقات کی ۔اس موقع پر سیکریٹری تعلیم کے افسران کی جانب سے بتایا گیا کہ محکمہ تعلیم میں 2012ءکے دوران بھرتی ہونیوالے اساتذہ اور نا ن ٹیچنگ اسٹاف کے معاملے پر محکمہ جاتی اجلاس 28اکتوبر بروز ہفتہ کو طلب کیا جا چکا ہے جس میں سیکریٹری تعلیم اقبال درانی ،ڈائریکٹر اسکول سکینڈری و پرائمری ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز شریک ہوں گے۔اجلاس میں سابق سیکریٹری تعلیم عبد العزیز عقیلی جانب سے اب تک کئے گئے اقدامات اور بھرتیاں قواعد و ضوابط ہونے کا جائزہ لیا جائیگا جبکہ اس ضمن میں قانونی پہلوﺅں پر بھی غور کیا جائیگا جس کے بعد ان اساتذہ اور نا ن اسٹاف کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا ۔دوسری جانب ٹیچرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظہیر بلوچ کا کہنا تھا کہ پانچ برس سے تنخواہوں سے محروم اساتذہ کے معاملے کو اب تک سنجیدہ نہیں لیا گیا جس کی وجہ سے اساتذہ بھرپوراحتجاج کرنے پر غور کر رہے ہیں ۔

 

Write on ھفتہ, 21 اکتوبر 2017

اسلام آباد: پاکستان میں 5 جی سروس کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں اور وفاقی حکومت نے پالیسی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔
3 اور 4 جی کے بعد اب پاکستانی صارفین 5 جی سروس سے بھی مستفید ہوں گے جس کے لئے باقاعدہ طور پر تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی نے پی ٹی اے کو 5 جی سروس کا فریم ورک تیار کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ پی ٹی اے فریم ورک تیار کرکے محدود تجرباتی سروس شروع کرے گی جب کہ اس حوالے سے پاکستان میں موجود تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی کی جائے گی۔ 2018 میں پاکستان 5 جی سروس مہیا کرنے والے دنیا کے چند ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت تھری جی اور فور جی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 4 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

Write on جمعہ, 20 اکتوبر 2017

کراچی( عمرہاروں)جے یو آئی سندھ میں شدیداختلافات کی وجہ سے کراچی میں جے یو آئی کی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئی ہے،انتخابات کیلئے امیدوارکاتعین،اتحاد کیلئے دیگرجماعتی سے رابطے اورعوامی رابطہ مہم کیلئے تاحال کوئی حکمت عملی نہ بنائی جاسکی،پی ایس 114ضمنی انتخابات میں مقامی سطح پر پارٹی کی تقسیم کا اثرضلع شرقی کے بعد دیگر اضلاع میں بھی نظرآنے لگاہے،حافظ عبدالقیوم نعمانی اورراشدسومروکی ایم کیو ایم کی طرف جھکاﺅ سے نظریاتی کارکن مایوس ہورہے ہیں،پی ایس 114میں شامل 6یونین کونسلز کے امراءاور نظماءعمومی نے تمام ارکان کے ساتھ اجتماعی استعفے دے دیئے ہیں،راشدسومرواورقاری عثمان کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے کراچی میں جے یوآئی قیادت سے محروم اور تاریخ کے بدترین داخلی بحران سے دوچارہیں،خطیررقم سے خریدا گیاجے یو آئی کراچی دفتر بھی ویران پڑاہے،راشدسومروکی قیادت میںکراچی رابطہ کمیٹی کے اضلاع کے دورے بھی ناکامی سے دوچاررہے،کارکنوں کی مایوس کن تعدادپروگراموں میں شریک ہوئے،باخبرذرائع کے مطابق سیاسی میدان کی فعال مذہبی جماعت جمعیت علماءاسلام سندھ میں صوبائی سطح پرشدیدترین اختلافات سے دوچارہے،صوبائی نائب امیرقاری محمدعثمان اورصوبائی جنرل سیکرٹری مولاناراشدخالد محمودسومروکے درمیان کراچی کے معاملات کی وجہ سے پیداہونے والی کشیدگی سے کراچی میں جے یو آئی دوواضح دھڑوں میں تقسیم ہوتی نظرآرہی ہے،ایک دھڑاقاری عثمان کا حامی ہے اورایک دھڑاراشدسومروکی پالیسیوں کی حمایت کررہاہے،اس دھڑا بندی میںنظریاتی مذہبی کارکن مایوس ہوکرجے یو آئی سے کنارہ کش ہورہاہے جس پارٹی کو انتخابات میں بڑے نقصان کا خدشہ ہے۔ذرائع کے مطابق مولاناراشد محمودسومروکے صوبائی جنرل سیکرٹری بننے کے بعدقاری عثمان کو امید تھی کہ پارٹی میں کراچی ڈویژن بحال کرکے انہیں کراچی کا امیر بنایا جائے گامگرصوبائی جماعت نے کراچی ڈویژن بحال کرنے کی بجائے قاری عثمان کوصوبائی نائب امیربناکے صوبائی جماعت کاپابندبنادیامگرقاری عثمان نے کراچی کے امیرکے طرزکی کراچی بھر میں سرگرمیاں جاری رکھی جس کا صوبائی جنرل سیکرٹری مولاناراشدخالد محمودسومرونے نوٹس لیااور انہیں پارٹی عہدے کے مطابق اختیارات استعمال کرانے کا کہا مگران کی سرگرمیاں جاری رہی جس پر انہیں باقاعدہ شوکازنوٹس بھی جاری کردیا گیاہے،ذرائع کے مطابق صوبائی جنرل سیکرٹری راشد محمودسومرونے قاری عثمان کو سائیڈلائن کرنے کیلئے3اگست کو کراچی کی سطح پراپنی سربراہی میں 8رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دی جس میںاضلاع کے امراءلئے گئے اورپھراس کمیٹی کے کراچی کے اضلاع کے دوروں کے پروگرام تشکیل دیئے گئے مگرکارکنوں کی شرکت اور دلچسپی کے حوالے پہلے سے طے شدہ یہ پروگرامات ناکام رہے،ذرائع کے مطابق کراچی میں جے یو آئی کے اکثریتی علاقے بلدیہ ٹاﺅن،سائٹ ایریاز،لانڈھی،کیماڑی ،سہراب گوٹھ،پٹیل پاڑا،منظورکالونی،گڈاپ اوردیگر میں جے یو آئی کے کارکن پارٹی میں بڑھتی ہوئی گروپنگ اور غیرمقبول فیصلوں کی وجہ سے مایوس ہوکردیگر جماعتوں سے رابطے کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق چارماہ قبل پی ایس 114ضمنی انتخابات میں مقامی سطح پر پارٹی کی تقسیم اور صوبائی جماعت کے غلط فیصلوں سے بھی اختلافات شدیدہوگئے ہیں جس کا اثرضلع شرقی کے بعد دیگر اضلاع میں بھی نظرآنے لگاہے،صوبائی سرپرسست حافظ عبدالقیوم نعمانی کی ذاتی حیثیت میں ایم کیو ایم کی حمایت کو جے یو آئی کی حمایت تسلیم کرانے کی ضداورپھر صوبائی جماعت کی جانب سے ان کی مکمل تائید سے بھی پی ایس 114 کے کارکن گومگوں کی کیفیت میں مبتلارہے،جے یو آئی نے پی ایس 114پر پی پی پی کی حمایت کی جس کا باقاعدہ اعلان صوبائی ناظم عبدالمالک تالپر اورصوبائی سیکرٹری اطلاعات تاج ناہیون نے پی پی پی رہنماﺅں کے ہمراہ جے یو آئی کراچی دفترمیں پریس کانفرنس میں کیامگربعدازاںصوبائی سرپرسست حافظ عبدالقیوم نعمانی کی ذاتی حیثیت میں ایم کیو ایم سے دیرینہ تعلقات اورحمایت کے وعدوں کی پاس رکھنے کیلئے راتوں رات موقف تبدیل کیاگیاجسے پی ایس 114کے کارکنوں نے تسلیم کرنے سے انکارکرتے ہوئے کھل کر پی پی پی کی حمایت جاری رکھی اور پولنگ والے دن پی پی پی رہنماﺅں کے ساتھ مل کر جے یو آئی کے ووٹ پی پی پی کوڈلواتے رہے جس کی حافظ عبدالقیوم نعمانی نے صوبائی جماعت کو شکایت کی اورپھرصوبائی جماعت نے جے یو آئی کے سابق امیدوارچوہدری دانیال گجر،ضلعی سیکرٹری اطلاعات جمال کاکڑ،مفتی یونس اورمولانا غلام یاسین کو جے یو آئی سے نکالنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیااوران کی کوئی معذرت قبول نہ کرنے کا سخت فیصلہ کیا گیا،صوبائی جماعت کے اس یک طرفہ فیصلے کے خلاف پی ایس 114 میں شامل 6یونین کونسلز کے امراءاور نظماءعمومی نے تمام ارکان کے ساتھ اجتماعی استعفے ضلع شرقی کے جنرل سیکرٹری مولانا عاصم کریم کے پاس جمع کرادیئے ہیں جبکہ ضلع شرقی کے اورکئی یوسیزکے عہدیداربھی مستعفی ہونے کی تیاری کررہے ہیں،ذرائع کے مطابق حافظ عبدالقیوم نعمانی اورراشدسومروکی ایم کیو ایم کی حمایت کے غیرمقبول فیصلے پر اصرارکی وجہ سے پی ایس 114میں جے یو آئی کی بنیادرکھنے والے کارکنوں کے پارٹی سے نکالنے کے فیصلے سے سے بیشتر کارکن مایوس ہوکر پارٹی چھوڑنے پر غورکررہے ہیںجس سے جے یو آئی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ذرائع کے مطابق حافظ عبدالقیوم نعمانی ماضی میں بھی جے یو آئی کے جماعتی فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی حمایت کرتے رہے ہیں مگر مولانا فضل لرحمن سے ذاتی تعلق کی وجہ سے ان کی سرگرمیوں کا جماعتی سطح پرکوئی نوٹس نہیں لیاگیا،اب بھی جے یو آئی کراچی میںانتشارکی اہم وجہ پی ایس 114میں جنم لینے والے اختلافات اوراس کے بعدہونے والے غیرمقبول فیصلے ہیں جس سے کراچی کے تمام اضلاع کے کارکن بری طرح متاثرہورہے ہیں اورپارٹی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیارکنے پر مجبورہیں۔

صفحہ نمبر 1 ٹوٹل صفحات 169

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ